مجموعہ آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 615

مجموعہ آمین — Page 528

22 د۔ر۔ز دابّۃ الارض مسیح موعود کی نشانی دابۃ الارض کا خروج ہے اس سے مراد وہ لوگ جن کی زبانوں پر خدا کا ذکر ہے لیکن آسمان کی روح ان کے اندر نہیں ۲۷۸ دائرہ خلقت بنی آدم بھی دوری طور پر ہے تاوحدت خالق کائنات پر دلالت کرے ۳۱۹۔ح‘۳۲۰۔ح اجرام فلکی کا گول شکل پر پیدا کرنے میں حکمت اور ان کی وحدت سے مناسبت ۳۱۹۔ح استدارات زمانہ رجعت بروز کو چاہتا ہے ۳۱۹ دجال دجال کی حقیقت ۲۳۵ دجال شیطان کا اسم اعظم ہے جو بالمقابل خدا تعالیٰ کے اسم اعظم کے ہے جو اللہ الحی القیوم ہے ۲۶۸،۲۶۹۔ح نحاش کا دوسرا نام دجال ہے ۲۷۴۔ح دجال معہود کا نام بھی شر البریہ ہے ۲۷۲۔ح قرآن کریم میں الناس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے ۱۲۰ آنحضورؐ نے فرمایا کہ جب تم دجال کو دیکھو تو سورۃ کہف کی پہلی آیتیں پڑھو اس میں عیسائیوں کا ذکر ہے ۲۱۱ دجال سے مراد صرف وہ فرقہ ہے جو کلام الٰہی میں تحریف کرتے ہیں یا دہریہ کے رنگ میں خدا سے لاپرواہ ہیں ۲۳۳۔ح حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ آدم سے قیامت تک شر انگیزی میں دجال کی مانند نہ کوئی ہوا ہے نہ ہو گا ۱۲۱ فتنہ دجال امت محمدیہ میں پیدا ہو گا اس کو فرو بھی امت کے افراد کریں گے بنی اسرائیل نہیں ۱۲۱،۱۲۲ آنحضرتؐ نے دجال کا پتا دینے کیلئے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۱۶۶ نواب صدیق حسن خان صاحب حجج الکرامہ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ فتنہ دجالیہ کیلئے جو مشرق مقرر کیا گیا ہے وہ ہندوستان ہے ۱۶۶ اس کے نبوت اور خدائی کے دعوی کرنے سے مراد ۲۳۳ ایک آنکھ اندھی اور ایک آنکھ پھولی ہوئی ہو گی اس سے مراد ۲۳۴ ضالین قوم اسم دجال کا مظہر اتم اور اکمل ہے جس کا ذکر سورۃ فاتحہ اور آخری تین سورتوں میں بھی ہے ۲۶۹۔ح قرآن میں یاجوج ماجوج کا جو ذکر ہے ان سے مراد گروہ دجال ہے ۲۳۶ دجال کے ہیبت ناک منظر کو پیش کرنا گویا شرک اختیار کرنا ہے ۲۳۷ دجال کوئی علیحدہ فرقہ نہیں ۲۳۱ نسائی میں دجالی گروہ کی بیان شدہ علامات ۲۱۱ دجال ایک گروہ کا نام ہے نہ کہ کوئی ایک شخص حدیث میں دجال کیلئے جمع کے صیغہ استعمال ہوا ۲۳۶ آثار و کتب میں لکھا ہے کہ علماء مسیح کو دجال ٹھہرائیں گے ۱۵۷ مسیح کے ایک معنی صدیق کے ہیں اور یہ لفظ دجال کے مقابل پر ہے ۳۵۷۔ح دجال مسیح موعود کے ہاتھوں قتل ہو گیا ہے ۲۴۰،۲۴۱ مجھے اس ملک کے بعض مولویوں نے دجال قرار دیا ۷ دعا/قبولیت دعا خدا مخلصین کی دعاؤں کو قبول کرتاہے ۳۷۸ سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئیں ۲۱۷ فاتحہ میں مغضوب علیہم کے ظہور اور ضالین کے غلبہ کے فتنہ سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ۲۸۵۔ح مسلمانوں کو فاتحہ میں غیر المغضوب علیہم والضالین کی دعا سکھانے کی حکمت ۲۰۱،۲۰۴ دنیا میں ہزارہا مذہب پھیلے ہوئے ہیں جیسے مجوسی، بدھ ہندو چینی لیکن فاتحہ میں صرف عیسائیت کی ضلالتوں سے پناہ کی دعا سکھائی گئی ہے