مجموعہ آمین — Page 502
١٦ روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۰۲ مجموعه آمین یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تری رحمت کی کچھ قلت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیوں کر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مردے جلاوے ثمر ہے دور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق وہ موتی اُٹھاوے دکھاوے خودی اور خود روی کب اُس کو بھاوے - وہ دیکھے نیستی رحمت مجھے تو نے یہ دولت اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی اُٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک جوش آمال و امانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی