مجموعہ آمین — Page 501
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۰۱ مجموعه آمین ہر اک بگڑی ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تری نصرت سے اب دشمن تبہ ہے ہر اک جا میں ہماری تو پینہ ہے ہر اک بد خواہ اب کیوں رو سیہ ہے کہ وہ مثل خسوف مہرومہ ہے سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي ۔ ترے فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے ترے نوروں سے دل شمس الضحی ہے اگر اندھوں کو انکار و ابا ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے کہیں جو کچھ کہیں تجھے سمر خدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے بدی کا پھل بدی اور نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي سب زور و قدرت ہے خدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو ہر اک عاشق نے ہے اک بت بنایا ہمارے دل میں نہ پایا دلبر سمایا وہی آرامِ جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرایا ہوا ظاہر وہ مجھ پر الايادي فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْـــــرَى الْاعَــــــادِى وہی جنت وہی دارالاماں ہے مجھے اُس یار سے پیوند جاں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے ہیں دشمن کے لفظ سے اس جگہ وہ حاسد مراد ہے جو ہر ایک طور سے مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو میری نسبت بدظن کرتے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں بھی جھوٹی شکایتیں کرتے رہتے ہیں اور گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جو میرے مخلصانہ خیالات ہیں ان کو چھپاتے ہیں ۔ منہ ۱۲ ۱۵