مجموعہ آمین — Page 491
روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۹۱ مجموعه آمین اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا ہر رنج سے بچانا دکھ درد سے چھڑانا خود میرے کام کرنا یارب نہ آزمانا! یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَّرَانِي یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں یہ ہو دیں نور یکسر یہ مر مرجع شہاں ہوں ہوویں مہر انور یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَّرَانِي اہل وقار ہوویں فخر دیار ہو دیں حق پر شار ہو دیں مولی کے یار ہو دیں با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَرَانِي تو ہے جو پالتا ہے، ہر دم سنبھالتا ہے غم سے نکالتا ہے، دردوں کو ٹالتا ہے کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے ید روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يُرَانِي تو نے سکھایا فرقاں جو ہے مدارہ ایماں جس سے ملے ہے عرفاں اور دور ہووے شیطان یہ سب ہے تیرا احساں تجھ پر نثار ہو جاں یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَّرَانِي تیرا نبی جو آیا اُس نے خدا دکھایا دین قویم لایا بدعات کو مٹایا حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يُرَانِي قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں مرے پیارے احساں میں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو بارے دل خوں ہیں غم کے مارے کشتی لگا کنارے یہ روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يُرَانِي