لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 293

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۳ لیکچر لدھیانہ تو جانوروں نے بھی پناہ مانگی ہے اور چودھویں صدی مبارک ہوگی مگر یہ کیا ہوا کہ وہ چودھویں صدی جس پر ایک موعود امام آنے والا تھا اُس میں بجائے صادق کے کاذب آ گیا اور اُس کی تائید میں ہزاروں لاکھوں نشان بھی ظاہر ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے ہر میدان اور ہر مقابلہ میں نصرت بھی اُسی کی کی۔ ان باتوں کا ذرا سوچ کر جواب دو۔ یونہی منہ سے ایک بات نکال دینا آسان ہے مگر خدا کے خوف سے بات نکالنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مفتری اور کذاب انسان کو اتنی لمبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جاوے۔ میری عمر ۶۷ سال کی ہے اور مری بعثت کا زمانہ ۲۳ سال سے بڑھ گیا ہے۔ اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب تھا تو اللہ تعالیٰ اس معاملہ کو اتنا لمبا نہ ہونے دیتا۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمہارے آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ یاد رکھو کہ میرے آنے کی دو غرضیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو غلبہ اس وقت اسلام پر دوسرے مذاہب کا ہوا ہے گویا وہ اسلام کو کھاتے جاتے ہیں اور اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہو گیا ہے۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا میں ادیان باطلہ کے حملوں سے اسلام کو بچاؤں اور اسلام کے پر زور دلائل اور صداقتوں کے ثبوت پیش کروں ۔ اور وہ ثبوت علاوہ علمی دلائل کے انوار اور برکات سماوی ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کی تائید میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت اگر تم پادریوں کی رپورٹیں پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی مخالفت کے لئے کیا سامان کر رہے ہیں اور ان کا ایک ایک پرچہ کتنی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ اسلام کا بول بالا کیا جاتا ۔ پس اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ ہاں یہ سچی بات ہے کہ اس غلبہ کے لئے کسی تلوار اور بندوق کی حاجت نہیں اور نہ خدا نے مجھے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔ جو شخص اس وقت یہ خیال کرے وہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔ مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا