لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 294

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۴ لیکچر لدھیانہ ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیں ہوتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلوار اُٹھائی میں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طور پر تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گزر گئے اور بے کس مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو چکی۔ غرض میرے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر ہو۔ دوسرا کام یہ ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں یہ صرف زبانوں پر حساب ہے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ وہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے جو اسلام کا مغز اور اصل ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالی کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔ اب جو کچھ ہے وہ دنیا ہی کے لئے ہے اور اس قدر استغراق دنیا میں ہو رہا ہے کہ خدا تعالی کے لئے کوئی خانہ خالی نہیں رہنے دیا۔ تجارت ہے تو دنیا کے لئے ، عمارت ہے تو دنیا کے لئے بلکہ نماز روزہ اگر ہے تو وہ بھی دنیا کے لئے ۔ دنیا داروں کے قرب کے لئے تو سب کچھ کیا جاتا ہے مگر دین کا پاس ذرہ بھی نہیں ۔ اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کے اعتراف اور قبولیت کا اتنا ہی منشاء تھا جو سمجھ لیا گیا ہے یا وہ بلند غرض ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے جیسے جیسے اللہ تعالٰی کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اُس سے تسلی پاتا ہے۔ اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اُسے حاصل ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہو گئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔ پس جیسے میرا یہ کام ہے کہ ان حملوں کو روکا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویسے ہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور روح