لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 282

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۲ لیکچر لدھیانہ سرایت کر سکیں وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔ یہ خوب یا درکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔ پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عیدگاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں ۔ ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حقوق کے دو ہی حصے رکھے ہیں۔ ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد ۔ اس پر بہت کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاذْكُرُوا الله كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا - یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح پر تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ اس جگہ دو رمز ہیں۔ ایک تو ذکر اللہ کو ذکر آباء سے مشابہت دی ہے۔ اس میں یہ سر ہے کہ آباء کی محبت ذاتی اور فطرتی محبت ہوتی ہے۔ دیکھو بچہ کو جب ماں مارتی ہے وہ اس وقت بھی ماں ماں ہی پکارتا ہے۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے۔ اس محبت کے بعد اطاعت امر اللہ کی خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہیے یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے فطری اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔ایک اور مقام پر یوں فرمایا ہے: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُربی ۔ اس آیت میں ان تین مدارج کا ذکر کیا ہے جو انسان کو حاصل کرنے چاہئیں پہلا مرتبہ عدل کا ہے اور عدل یہ ہے کہ انسان کسی سے کوئی نیکی کرے بشرط معاوضہ ۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ ایسی نیکی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں بلکہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عدل کرو اور اگر اس پر ترقی کرو تو پھر وہ احسان کا درجہ ہے یعنی بلا عوض سلوک کرو لیکن یہ امر کہ جو بدی کرتا ہے اس سے نیکی کی جاوے۔ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے دوسری پھیر دی جاوے یہ میچ نہیں یا یہ کہو کہ عام طور پر یہ تعلیم عمل درآمد میں نہیں آسکتی البقرة : ٢٠١ النحل : ۹۱