لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 281

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۱ لیکچر لدھیانہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت یہ تو حید گم ہو گئی تھی اور یہ دیش آریہ ورت بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ جیسا کہ پنڈت دیانند سرستی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ ایسی حالت اور ایسے وقت میں ضرور تھا کہ آپ مبعوث ہوتے ۔ اس کا ہمرنگ یہ زمانہ بھی ہے جس میں بت پرستی کے ساتھ انسان پرستی اور دہریت بھی پھیل گئی ہے اور اسلام کا اصل مقصد اور روح باقی نہیں رہا۔ اس کا مغز تو یہ تھا کہ خدا ہی کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا اور مقصد یہ ہے کہ انسان رو بخدا ہو جاوے رو بد نیا نہ رہے۔ اور اس مقصد کے لئے اسلام نے اپنی تعلیم کے دو حصے کئے ہیں۔ اول حقوق اللہ دوم حقوق العباد ۔ حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اور حقوق العباد یہ ہے کہ خدا کی مخلوق سے ہمدردی کریں۔ یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔ ہمدردی اور سلوک الگ چیز ہے اور مخالفت مذہب دوسری شے ۔مسلمانوں کا وہ گروہ جو جہاد کی غلطی اور غلط نہی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ کفار کا مال ناجائز طور پر لینا بھی درست ہے۔ خود میری نسبت بھی ان لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ان کا مال لوٹ لو بلکہ یہاں تک بھی کہ ان کی بیویاں نکال لو حالانکہ اسلام میں اس قسم کی نا پاک تعلیمیں نہ تھیں۔ وہ تو ایک صاف اور مصفی مذہب تھا۔ اسلام کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جیسے باپ اپنے حقوق ابوت کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چاہتا ہے کہ اولاد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ ایک دوسرے کو مارے۔ اسلام بھی جہاں یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہ ہو وہاں اس کا یہ بھی منشاء ہے کہ نوع انسان میں مودت اور وحدت ہو۔ نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ با ہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں ۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں