لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 280

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۸۰ لیکچر لدھیانہ وہ گر رہے ہیں۔ اُن کی زبان ساتھ ہے تو دل نہیں ہے اور اسلام یتیم ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اُس کی حمایت اور سر پرستی کروں اور اپنے وعدہ کے موافق بھیجا ہے کیونکہ اس نے فرمایا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ ۔ اگر اس وقت حمایت اور نصرت اور حفاظت نہ کی جاتی تو وہ اور کونسا وقت آئے گا؟ اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہورہی ہے جو بدر کے موقعہ پر ہوگئی تھی جس کے لئے اللہ تعالی فرماتا ہے۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ اَنْتُمْ اَذِنَّةٌ ۔ اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور نا تو ان ہو جائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔ پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اُس نے اسلام کی نصرت کی؟ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ میرا نام دجال اور کذاب رکھا جاتا ہے اور مجھ پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں۔ اس لئے کہ یہ ضرور تھا کہ میرے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو مجھے سے پہلے فرستادوں کے ساتھ ہوا تا میں بھی اس قدیم سنت سے حصہ پاتا۔ میں نے تو ان مصائب اور شدائد کا کچھ بھی حصہ نہیں پایا لیکن جو مصیبتیں اور مشکلات ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں آئیں اُس کی نظیر انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں کسی کے لئے نہیں پائی جاتی ۔ آپ نے اسلام کی خاطر وہ دکھ اُٹھائے کہ قلم اُن کے لکھنے اور زبان اُن کے بیان سے عاجز ہے۔ اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے جلیل الشان اور اولو العزم نبی تھے ۔ اگر خدا تعالی کی تائید اور نصرت آپ کے ساتھ نہ ہوتی تو ان مشکلات کے پہاڑ کو اٹھانا ناممکن ہو جاتا ۔ اور اگر کوئی اور نبی ہوتا تو وہ بھی رہ جاتا مگر جس اسلام کو ایسی مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ آپ نے پھیلایا تھا آج اس کا جو حال ہو گیا ہے وہ میں کیونکر کہوں؟ اسلام کے معنے تو یہ تھے کہ انسان خدا کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاوے اور جس طرح پر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اس طرح پر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لئے رکھ دی جاوے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہ لاشریک سمجھے۔ الحجر : ۸۰ ال عمران ۱۲۴