لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 269

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۶۹ لیکچرلدھیانہ دشمن ہے شہادت دینے کے واسطے عدالت میں آیا۔ اور جہاں تک اُس سے ہو سکا اس نے میرے خلاف شہادت دی اور پورے طور پر مقدمہ میرے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ مقدمہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے اجلاس میں تھا جو شاید اب شملہ میں ہیں۔ اُن کے روبرو مقدمہ پورے طور پر مرتب ہو گیا اور تمام شہادتیں میرے خلاف بڑے زور شور سے دی گئیں۔ ایسی حالت اور صورت میں کوئی قانون دان اہل الرائے بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں بری ہو سکتا ہوں ۔ تقاضائے وقت اور صورتیں ایسی واقع ہو چکی تھیں کہ مجھے سیشن سپر د کر دیا جاتا اور وہاں سے پھانسی کا حکم ملتا یا عبور دریائے شور کی سزا دی جاتی مگر خدا تعالیٰ نے جیسے مقدمہ سے پہلے مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح یہ بھی قبل از وقت ظاہر کر دیا تھا کہ میں اس میں یر کی ہوں گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی میری جماعت کے ایک گروہ کثیر کو معلوم تھی ۔ غرض جب مقدمہ اس مرحلہ پر پہنچا اور دشمنوں اور مخالفوں کا یہ خیال ہو گیا کہ اب مجھے مجسٹریٹ سیشن سپر د کرے گا۔ اس موقعہ پر اس نے کپتان پولیس سے کہا کہ میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے۔ میرا دل اس کو نہیں مانتا کہ فی الواقعہ ایسی کوشش کی گئی ہو اور انہوں نے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے آدمی بھیجا ہو۔ آپ اس کی پھر تفتیش کریں۔ یہ وہ وقت تھا کہ میرے مخالف میرے خلاف ہر قسم کے منصوبوں ہی میں نہ لگے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ جن کو قبولیت دعا کے دعوے تھے وہ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے اور رو رو کر دعائیں کرتے تھے کہ میں سزایاب ہو جاؤں مگر خدا تعالیٰ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کپتان ڈگلس صاحب کے پاس بعض سپارشیں بھی آئیں مگر وہ ایک انصاف پسند مجسٹریٹ تھا۔ اُس نے کہا کہ ہم سے ایسی بدذاتی نہیں ہوسکتی۔ غرض جب مقدمہ دوبارہ تفتیش کے لئے کپتان لیمار چنڈ کے سپرد کیا گیا تو کپتان صاحب نے عبدالحمید کو بلایا اور اُس کو کہا کہ تو سچ سچ بیان کر ۔ عبد الحمید نے اس پر بھی وہی قصہ جو اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر کے روبرو بیان کیا تھا دو ہرایا۔ اُس کو پہلے سے یہ کہا گیا تھا