لیکچر لدھیانہ — Page 257
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۷ لیکچر لدھیانہ یه نشان مقرر کر دیا ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ لا یعنی اللہ تعالیٰ کے غیب کا کسی پر ظہور نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں پر ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ بعض پیشگوئیاں بار یک اسرار اپنے اندر رکھتی ہیں اور دقیق امور کی وجہ سے ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں جو دور بین آنکھیں نہیں رکھتے اور موٹی موٹی باتوں کو صرف سمجھ سکتے ہیں ۔ ایسی ہی پیشگوئیوں پر عموماً تکذیب ہوتی ہے اور جلد باز اور شتاب کار کہہ اُٹھتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كَذِبُوا کے ان پیشگوئیوں میں لوگ شبہات پیدا کرتے ہیں مگر فی الحقیقت وہ پیشگوئیاں خدا تعالیٰ کی سنن کے ماتحت پوری ہو جاتی ہیں ۔ تاہم اگر وہ سمجھ میں نہ بھی آئیں تو مومن اور خدا ترس انسان کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان پیشگوئیوں پر نظر کرے جن میں دقائق نہیں یعنی جو موٹی موٹی پیشگوئیاں ہیں۔ پھر دیکھے کہ وہ کس قدر تعداد میں پوری ہو چکی ہیں۔ یونہی منہ سے انکار کر دینا تقویٰ کے خلاف ۔ ہے۔ دیانت اور خدا ترسی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھنا چاہیے جو پوری ہو چکی ہیں مگر جلد بازوں کا منہ کون بند کرے؟ اس قسم کے امور مجھے ہی پیش نہیں آئے حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئے ۔ پھر اگر یہ امر مجھے بھی پیش آوے تو تعجب نہیں بلکہ ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ سنت اللہ یہی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ مومن کے لئے تو ایک شہادت بھی کافی ہے۔ اسی سے اس کا دل کانپ جاتا ہے مگر یہاں تو ایک نہیں صد ہانشان موجود ہیں بلکہ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اس قدر ہیں کہ میں انہیں گن نہیں سکتا۔ یہ شہادت تھوڑی نہیں کہ دلوں کو فتح کرلے گا ۔ مکذبوں کو موافق بنا لے گا ۔ اگر کوئی خدا کا خوف کرے اور دل میں دیانت اور دوراندیشی سے سوچے تو اُسے بے اختیار ہو کر ماننا پڑے گا کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر یہ بھی ظاہر بات ہے کہ مخالف جب تک رد نہ کرے اور اس کی نظیر پیش نہ کرے ا الجن : ۲۸۷۲۷ ۲ یوسف : ۱۱۱