لیکچر لدھیانہ — Page 253
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۳ لیکچرلدھیانہ اور پھر انسان کثرت مخلوقات سے گھبرا جاتا ہے اور ان سے کج خلقی کر بیٹھتا ہے۔ اس لئے اس سے منع کیا کہ ان سے کج خلقی نہ کرنا۔ اور پھر یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جانا۔ اب آپ غور کریں کہ کیا یہ امر انسانی طاقت کے اندر ہے کہ پچیس تیس برس پہلے ایک واقعہ کی اطلاع دے اور وہ بھی اسی کے متعلق اور پھر اسی طرح پر وقوع بھی ہو جاوے۔ انسانی ہستی اور زندگی کا تو ایک منٹ کا بھی اعتبار نہیں اور نہیں کہہ سکتے کہ دوسرا سانس آئے گا یا نہیں پھر ایسی خبر دینا یہ کیونکر اس کی طاقت اور قیاس میں آسکتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ میں بالکل اکیلا تھا اور لوگوں سے ملنے سے بھی مجھے نفرت تھی اور چونکہ ایک وقت آنے والا تھا کہ لاکھوں انسان میری طرف رجوع کریں اس لئے اس نصیحت کی ضرورت پڑى لا تصغر لخلق الله ولا تسئم من الناس اور پھر انہیں دنوں میں یہ بھی فرمایا۔ انت منی بمنزلة توحيدى۔ فحان ان تعان و تعرف بين الناس یعنی وہ وہ وقت آتا ہے کہ تیری مدد کی جاوے گی اور تو لوگوں کے درمیان شناخت کیا جاوے گا۔ اسی طرح پر فارسی۔ عربی اور انگریزی میں کثرت سے ایسے الہامات ہیں جو اس مضمون کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب سوچنے کا مقام ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا کا خوف رکھتے ہیں کہ اس قد رعرصہ دراز پیشتر ایک پیشگوئی کی گئی اور وہ کتاب میں چھپ کر شائع ہوئی۔ براہین احمدیہ ایسی کتاب ہے جس کو دوست دشمن سب نے پڑھا۔ گورنمنٹ میں بھی اس کی کا پی بھیجی گئی ۔ عیسائیوں ہندوؤں نے اسے پڑھا۔ اس شہر میں بھی بہتوں کے پاس یہ کتاب ہوگی وہ دیکھیں کہ اس میں درج ہے یا نہیں ؟ پھر وہ مولوی ( جو محض عداوت کی راہ سے مجھے دجال اور کذاب کہتے ہیں اور یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ) شرم کریں اور بتائیں کہ اگر یہ پیشگوئی نہیں تو پھر اور پیشگوئی کس کو کہتے ہیں؟ یہ وہ کتاب ہے جس کا