لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 252

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۲ لیکچرلدھیانہ میری حمایت کی اور میرے مخالفوں کے خلاف ان کی اُمیدوں اور منصوبوں کے بالکل برعکس اُس نے مجھے وہ قبولیت بخشی کہ ایک خلق کو میری طرف متوجہ کیا جو ان مخالفتوں اور مشکلات کے پردوں اور روکوں کو چیرتی ہوئی میری طرف آئی اور آرہی ہے ۔ اب غور کا مقام ہے کہ کیا انسانی تجویزوں اور منصوبوں سے یہ کامیابی ہوسکتی ہے کہ دنیا کے بارسوخ لوگ ایک شخص کی ہلاکت کی فکر میں ہوں اور اس کے خلاف ہر قسم کے منصوبے کئے جاویں اس کے لئے خطرناک آگ جلائی جاوے مگر وہ ان سب آفتوں سے صاف نکل جاوے؟ ہرگز نہیں! یہ خدا کے کام ہیں جو ہمیشہ اس نے دکھائے ہیں۔ پھر اسی امر پر زبر دست دلیل یہ ہے کہ آج سے ۲۵ برس پیشتر جبکہ کوئی بھی میرے نام سے واقف نہ تھا اور نہ کوئی شخص قادیان میں میرے پاس آتا تھا یا خط و کتابت رکھتا تھا اس گمنامی کی حالت میں ان کسمپرسی کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: يأتون من كل فج عميق۔ يأتيك من كل فج عميق۔ لا تصغر لخلق الله و لا تسئم من الناس۔ رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثين۔ یہ وہ زبر دست پیشگوئی ہے جو ان ایام میں کی گئی اور چھپ کر شائع ہو گئی۔ اور ہر مذہب وملت کے لوگوں نے اسے پڑھا۔ ایسی حالت اور ایسے وقت میں کہ میں گمنامی کے گوشہ میں پڑا ہوا تھا اور کوئی شخص مجھے نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے پاس دور در از ملکوں سے لوگ آئیں گے اور کثرت سے آئیں گے اور اُن کے لئے مہمانداری کے ہر قسم کے سامان اور لوازمات بھی آئیں گے۔ چونکہ ایک شخص ہزاروں لاکھوں انسانوں کو مہمانداری کے جمیع لوازمات مہیا نہیں کر سکتا اور نہ اس قدراخراجات کو برداشت کر سکتا ہے اس لئے خود ہی فرمایا یا تیک من كل فج عمیق اُن کے سامان بھی ساتھ ہی آئیں گے