لیکچر لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 597

لیکچر لدھیانہ — Page 251

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۵۱ لیکچر لدھیانہ اور پھر جب اس تجویز میں بھی کامیابی نہ ہوئی تو پھر مقدمات شروع کئے ۔خون کے مقدمے میں مجھے پھنسایا اور ہر طرح کی کوششیں کیں کہ میں سزا پا جاؤں ۔ ایک پادری کے قتل کا الزام مجھے پر لگایا گیا۔ اس مقدمے میں مولوی محمد حسین نے بھی میرے خلاف بڑی کوشش کی اور خود شہادت دینے کے واسطے گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں پھنس جاؤں اور مجھے سزا ملے۔ مولوی محمد حسین کی یہ کوشش ظاہر کرتی تھی کہ وہ دلائل اور براہین سے عاجز ہے اس لئے کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دشمن دلائل سے عاجز ہو جاتا ہے اور براہین سے ملزم نہیں کر سکتا تو ایذ اقتل کی تجویزیں کرتا ہے اور وطن سے نکال دینے کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے خلاف مختلف قسم کے منصوبے اور سازشیں کرتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جب کفار مکہ عاجز آگئے اور ہر طرح سے ساکت ہو گئے تو آخر انہوں نے بھی اس قسم کے حیلے سوچے کہ آپ کو قتل کر دیں یا قید کریں یا آپ کو وطن سے نکال دیا جاوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ایذائیں دیں مگر آخر وہ سب کے سب اپنے ارادوں اور منصوبوں میں نامراد اور ناکام رہے۔ اب وہی سنت اور طریق میرے ساتھ ہو رہا ہے مگر یہ دنیا بغیر خالق اور رب العالمین کے ہستی نہیں رکھتی ۔ وہی ہے جو جھوٹے اور بچے میں امتیاز کرتا ہے اور آخر بچے کی حمایت کرتا اور اُسے غالب کر کے دکھا دیتا ہے۔ اب اس زمانہ میں جب خدا تعالیٰ نے پھر اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا ہے۔ میں اس کی تائیدوں کا ایک زندہ نشان ہوں اور اس وقت تم سب کے سب دیکھتے ہو کہ میں وہی ہوں جس کو قوم نے رد کیا اور میں مقبولوں کی طرح کھڑا ہوں ۔ تم قیاس کرو کہ اس وقت آج سے چودہ برس پیشتر جب میں یہاں آیا تھا تو کون چاہتا تھا کہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ ہو۔ علماء فقراء اور ہر قسم کے معظم مکرم لوگ یہ چاہتے تھے کہ میں ہلاک ہو جاؤں اور اس سلسلہ کا نام ونشان مٹ جاوے وہ بھی گوارا نہیں کرتے تھے کہ ترقیات نصیب ہوں مگر وہ خدا جو ہمیشہ اپنے بندوں کی حمایت کرتا ہے اور جس نے راستبازوں کو غالب کر کے دکھایا ہے اُس نے