لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 597

لیکچر لاہور — Page 202

۲۰۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ لیکچر لاہور اس پیرایہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصہ میں صرف ایک بدبودار کیچڑ ہوگا جس کو عربی میں حماً کہتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ صرف خشک توحید ہوگی جو تعصب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی اور وہ ذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یا جوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تا وہ اُن کے لئے سد روشن بنا دے گا یعنی ایسے پختہ ولائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا ۔ یا جوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا اور اُن کے آنسو پو نچھے گا اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا اور اُن کے ساتھ ہو گا ۔ یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں۔ یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے اور اس میں صریح طور پر میرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت کی خبر دی گئی ہے۔ پس مبارک وہ جوان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھے۔ قرآن شریف کی یہ سنت ہے کہ اس قسم کی پیشگوئیاں بھی کیا کرتا ہے کہ ذکر کسی اور کا ہوتا ہے اور اصل منشاء آئندہ زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ یوسف میں بھی اسی قسم کی پیشگوئی کی گئی ہے یعنی بظاہر تو ایک قصہ بیان کیا گیا ہے مگر اس میں یہ خلی پیشگوئی ہے کہ جس طرح یوسف کو اول بھائیوں نے حقارت کی نظر سے دیکھا مگر آخر وہی یوسف اُن کا سردار بنایا گیا۔ اس جگہ بھی قریش کے لئے ایسا ہی ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ر ڈ کر کے مکہ سے نکال دیا مگر وہی جو رد کیا گیا تھا ان کا پیشوا اور سردار بنایا گیا۔ بڑا تعجب کا مقام ہے کہ اس قدر بار بار مسیح موعود یعنی اس عاجز کی نسبت قرآن شریف میں پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں مگر پھر بعض ایسے لوگ جو اپنے اندر بصیرت کی روح نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں ۔ یہ لوگ اُن عیسائیوں کی طرح ہیں جو اب تک کہتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بائبل میں کوئی پیشگوئی نہیں۔ چشم باز و گوش باز و این ذکا خیره ام از چشم بندگی خدا این کمان از تیر ها پر ساخته صید نزدیک است دور انداخته راقم ۔ میرزا غلام احمد قادیانی