لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 597

لیکچر لاہور — Page 199

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۷ لیکھر لاہور دنیا میں آئیں گے اور مہدی کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائیاں کریں گے تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی یہ آیت غلط ٹھہرتی ہے اور یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور اس بات کو چھپائیں گے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور چالیس برس تک رہے تھے اور مہدی کے ساتھ مل کر عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں۔ پس اگر کوئی قرآن شریف پر ایمان لانے والا ہو تو فقط اس ایک ہی آیت سے تمام وہ منصو بہ باطل ثابت ہوتا ہے جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہدی خونی پیدا ہوگا اور عیسی اس کی مدد کے لئے آسمان سے آئے گا۔ بلا شبہ وہ شخص قرآن شریف کو چھوڑتا ہے جو ایسا اعتقا در کھتا ہے۔ پھر جب ہمارے مخالف ہر ایک بات میں مغلوب ہو جاتے ہیں تو آخر کار یہ کہتے ہیں کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں جیسے کہ آتھم کی پیشگوئی ۔ میں کہتا ہوں کہ اب آتھم کہاں ہے؟ اس پیشگوئی کا تو ماحصل یہ تھا کہ جو شخص جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی وفات پا جائے گا۔ سو انتقم وفات پا گیا۔ اور میں اب تک زندہ ہوں اور وہ پیشگوئی شرملی تھی یعنی میعاد اس کی شرط سے وابستہ تھی۔ پس جس حالت میں آتھم پیشگوئی کو سن کر ڈرتا رہا تو اس نے اس شرط کو پورا کر دیا۔ اس لئے چند مہینہ اور مہلت اس کو دی گئی ۔ افسوس کہ ایسے اعتراض کرنے والے اس بات کو نہیں سوچتے کہ جو یونس نبی نے پیشگوئی کی تھی اس کے ساتھ تو کوئی شرط نہ تھی جیسا کہ یونہ نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔ تاہم وہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ اصل بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں یعنی وہ پیشگوئیاں جن میں کسی پر عذاب نازل ہونے کا وعدہ ہو۔ وہ خدا کے نزدیک ہمیشہ تو بہ کی شرط سے یا صدقہ خیرات کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں یا خوف کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں اور تو بہ اور استغفار اور صدقہ خیرات اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے کے ساتھ ان پیشگوئیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے یا بالکل ٹل سکتی ہیں ورنہ یونس نبی نبی نہیں ٹھہرتا کیونکہ اس کی قطعی پیشگوئی خطا گئی۔ خدا کے عذاب کے ارادے جو کسی مجرم کی نسبت ہوتے ہیں صدقات خیرات دعا سے بھی ٹل سکتے ہیں اور مجرد خوف سے بھی ٹل سکتے ہیں۔ پس جو پیشگوئی عذاب پر