لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 597

لیکچر لاہور — Page 195

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۳ لیکچر لاہور امیر عبدالرحمن والی کابل کے حکم سے اور مولوی صاحبزادہ عبداللطیف خاں صاحب امیر حبیب اللہ کے ذریعہ سے کابل میں شہید کئے گئے ۔ اس کے سوا اور صد ہا پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقتوں پر پوری ہو گئیں چنانچہ ایک دفعہ مولوی حکیم نورالدین صاحب کو قبل از وقت خبر دی گئی کہ ان کے گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوگا اور اُس کے بدن پر کئی پھوڑے ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور وہ بیٹا پیدا ہوا اور اُس کے بدن پر پھوڑے تھے۔ مولوی صاحب موصوف اس جلسہ میں موجود ہوں گے اُن سے ہر ایک شخص حلفا دریافت کر سکتا ہے کہ یہ بات سچ ہے یا نہیں۔ پھر سردار محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم نام بیمار ہوا اور آثار نا امیدی ظاہر ہو گئے اور مجھے الہام کے ذریعہ خدا نے خبر دی کہ تیری شفاعت سے یہ لڑکا اچھا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے ایک شفیق ناصح کے رنگ میں اس کے لئے بہت دعا کی اور وہ لڑکا اچھا ہو گیا گویا مردہ زندہ ہوا۔ پھر ایسا ہی اُن کا دوسرا لڑ کا عبداللہ خاں بیمار ہوا۔ وہ بھی خوفناک بیماری میں پڑ کر موت تک پہنچ گیا۔ اُس کی شفا کی نسبت بھی مجھے خبر دی گئی اور وہ بھی میری دعا سے اچھا ہو گیا۔ اسی طرح اور بہت سے نشان ہیں اگر وہ سب لکھے جائیں تو ممکن نہیں کہ وہ مضمون دس دن (۳۸) بھی ختم ہو سکے۔ ان نشانوں کے گواہ ایک دو نہیں بلکہ کئی لاکھ انسان گواہ ہے یعنی میں نے اُن نشانوں میں سے ڈیڑھ سونشان اپنی کتاب نزول مسیح نام میں درج کیا ہے جو عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ وہ تمام نشان کئی قسم کے ہیں ۔ بعض آسمان میں ظاہر ہوئے بعض زمین میں بعض دوستوں کے متعلق ہیں بعض دشمنوں کے متعلق جو پورے ہو چکے ۔ بعض میری ذات کے متعلق ہیں بعض میری اولاد کے متعلق اور بعض ایسے نشان بھی ہیں کہ وہ محض کسی دشمن کے ذریعہ سے بغیر دخل میری ذات کے ظہور میں آگئے ہیں۔ جیسا کہ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے اپنی کتاب فتح رحمان میں اپنے طور پر میرے ساتھ مباہلہ کیا اور یہ دعا کی کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اس کو ہلاک کر دے۔ چنانچہ اس دُعا کے بعد صرف چند دن گزرنے پائے تھے