لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 597

لیکچر لاہور — Page 190

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۸ لیکھر لاہور اور اسی وجہ سے یہودیوں کو ٹھوکر لگی اور قبول نہ کیا مثلا اگر صاف لفظوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ پیشگوئی کی جاتی کہ مکہ میں پیدا ہوں گے اور آپ کا اسم مبارک محمد ہو گا اور آپ کے باپ کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب ہوگا اور آپ بنی اسماعیل کے خاندان میں سے ہوں گے اور مدینہ میں ہجرت کریں گے اور موسیٰ سے اتنی مدت بعد پیدا ہوں گے۔ تو ان نشانوں کے ساتھ کوئی یہودی انکار نہیں کر سکتا تھا اور حضرت مسیح کی پیشگوئی کی نسبت تو اور بھی مشکلات یہودیوں پر پڑیں جن سے وہ اپنے تئیں واقعی معذور خیال کرتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح کی نسبت یہ پیشگوئی ہے کہ وہ مسیح ظاہر نہیں ہوگا جب تک کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آوے مگر الیاس تو اب تک نہ آیا اور خدا کی کتاب میں یہ شرط تھی کہ وہ سچا مسیح جو خدا کی طرف سے آئے گا ضرور ہے کہ پہلے اُس سے الیاس دوبارہ دنیا میں آجاوے۔ حضرت مسیح کی طرف سے یہ جواب تھا کہ اس فقرے سے مراد مثیل الیاس ہے نہ کہ اصل الیاس مگر یہودی کہتے ہیں کہ یہ خدا کے کلام کی تحریف ہے ہمیں تو اصل الیاس کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی نسبت جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ باریک ہوتی ہیں تاشقی اور سعید میں فرق ظاہر ہو جاوے۔ پھر ماسوا اس کے یہ بات ظاہر ہے کہ جو دعوی راستی پر مبنی ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ ۴۳ ایک ہی قسم کا ثبوت نہیں رکھتا بلکہ اس سچے ہیرے کی طرح جس کے ہر ایک پہلو میں چمک نمودار ہوتی ہے وہ دعوی بھی ہر ایک پہلو سے چمکتا ہے ۔ سو میں زور سے کہتا ہوں کہ میرا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اِسی شان کا ہے کہ ہر ایک پہلو سے چمک رہا ہے۔ اول اس پہلو کو دیکھو کہ میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کا اور نیز مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہونے کا قریباً ستائیس برس سے ہے یعنی اس زمانہ سے بھی بہت پہلے ہے کہ جب براہین احمدیہ ابھی تالیف نہیں ہوئی تھی ۔ اور پھر براہین احمدیہ کے وقت میں وہ دعوی اسی کتاب میں لکھ کر شائع کیا گیا جس کو چوبیس برس کے قریب گزر چکے ہیں ۔