لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 597

لیکچر لاہور — Page 191

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۹ لیکھر لاہور اب دانا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جھوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہو سکتا اور خواہ کوئی شخص کیسا ہی کذاب ہو وہ ایسی بدذاتی کا اس قدر دور دراز مدت تک جس میں ایک بچہ پیدا ہو کر صاحب اولاد ہو سکتا ہے طبعا مرتکب نہیں ہوسکتاما سوائے اس کے اس بات کو کوئی عقلمند قبول نہیں کرے گا کہ ایک شخص قریباً ستائیس برس سے خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہے اور ہر ایک صبح اپنی طرف سے الہام بنا کر اور محض اپنی طرف سے پیشگویاں تراش کر کے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر ایک دن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ الہام کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے حالانکہ خدا جانتا ہے کہ وہ اس بات میں جھوٹا ہے۔ نہ اس کو کبھی الہام ہوا اور نہ خدا تعالیٰ اُس سے ہم کلام ہوا ۔ اور خدا اس کو ایک لعنتی انسان سمجھتا ہے مگر پھر بھی اس کی مدد کرتا ہے۔ اور اس کی جماعت کو ترقی دیتا ہے اور ان تمام منصوبوں اور بلاؤں سے اُسے بچاتا ہے جو دشمن اس کے لئے تجویز کرتے ہیں ۔ پھر ایک اور دلیل ہے جس سے میری سچائی روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی ہے اور میرا منجانب اللہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں جبکہ مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا یعنی براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ میں ایک گوشہ تنہائی میں اس کتاب کو تالیف کر رہا تھا اور بجز اس خدا کے جو عالم الغیب ہے کوئی میری حالت سے واقف نہ تھا تب اس زمانہ میں خدا نے مجھے مخاطب کر کے چند پیشگوئیاں فرمائیں جو اسی تنہائی اور غربت کے زمانہ میں براہین احمدیہ ﴿۲۴﴾ میں چھپ کر تمام ملک میں شائع ہو گئیں اور وہ یہ ہیں: یا احمدی انت مرادی و معی سرک سری۔ انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدي۔ فحانَ أَنْ تُعان وتعرف بين الناس ۔ انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق ينصرك الله في مواطن۔ انت وجيه فی حضرتی اخترتك لنفسي وانّى جاعلک للناس اماما ۔ ينصرك رجال رحى اليهم من السماء۔ يأتيك من كل فج عميق۔ يأتون من كل فج عميق۔