لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 597

لیکچر لاہور — Page 189

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۷ لیکچر لاہور یعنی اے عیسی! میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا ۔ پس اس جگہ مریمی مقام سے مجھے منتقل کر کے میرا نام عیسی رکھا گیا اور اس طرح پر ابن مریم مجھے ٹھہرایا گیا تا وہ وعدہ جو سورہ تحریم میں کیا گیا تھا پورا ہو۔ ایسا ہی سورہ نور میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام خلیفے اسی اُمت میں سے پیدا ہوں گے۔ اور قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس اُمت پر دو زمانے بہت خوفناک آئیں گے۔ ایک وہ زمانہ جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آیا۔ اور دوسرا وہ زمانہ جو دجالی فتنہ کا زمانہ ہے جو مسیح کے عہد میں آنے والا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ اور ای زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورہ نور میں موجود ہے۔ وَلَيُبَدِّ لَهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا اس آیت کے معنے پہلی آیت کے ساتھ ملا کر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائے گا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے ۔ تب خدا تعالی دوبارہ اس دین کو روئے زمین پر متمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دے گا جیسا کہ دوسری آیت میں فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ " یعنی خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو اس لئے بھیجا کہ تا دین اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور پھر یہ آیت کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ۔ یہ بھی (۲۲) مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور قرآن شریف کی رو سے مسیح موعود کے زمانہ کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے مشابہت ہے ۔ عنظمندوں کے لئے جو تدبر کرتے ہیں یہ ثبوت قرآنی تسلی بخش ہے اور اگر کسی نادان کی نظر میں یہ کافی نہیں ہیں تو پھر اس کو اقرار کرنا چاہیے کہ تو رات میں نہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت کوئی پیشگوئی ہے نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی پیش خبری ہے کیونکہ وہ الفاظ بھی محض مجمل ہیں۔ الفاتحة - النور ۵۶ ۳ الصف: ۱۰ الحجر: ١٠