لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 597

لیکچر لاہور — Page 188

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۸۶ لیکچر لاہور ختم ہو جاتا ہے۔ اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔ اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں ۔ اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔ کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصل طور پر اور یہ تفصیل قرآن شریف میں موجود ہے جس سے مسیح موعود کی نسبت قرآن شریف میں سے صاف طور پر پیشگوئی نکلتی ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ تمام انبیاء اپنی کتابوں میں مسیح کے زمانہ کی کسی نہ کسی پیرایہ میں خبر دیتے ہیں اور نیز دجالی فتنہ کو بھی بیان کرتے ہیں اور دنیا میں کوئی پیشگوئی اس قوت اور تواتر کی نہیں ہوگی جیسا کہ تمام نبیوں نے آخری مسیح کے بارہ میں کی ہے۔ تاہم ایسے لوگ بھی اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں کہ اس پیشگوئی کی صحت سے بھی منکر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس پیشگوئی کو ثابت کرو مگر افسوس کہ اگر وہ قرآن شریف کو سوچتے یا اس میں غور کرتے تو انہیں اقرار کرنا پڑتا کہ یہ پیشگوئی قرآن شریف میں نہایت صراحت سے موجود ہے اور اس قدر صراحت سے موجود ہے کہ دانا کے لئے اس سے بڑھ کر تفصیل کی حاجت نہیں۔ سورہ تحریم میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کے ابن مریم کہلائیں گے کیونکہ اوّل مریم سے اُن کو تشبیہ دے کر پھر مریم کی طرح نفخ رُوح اُن میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوّل وہ مریمی وجود لے کر اور اس سے ترقی کر کے پھر ابن مریم بن جائیں گے جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں اول میرا نام مریم رکھا اور فرمایا یا مریم اسکن انت وزوجك الجنة یعنی اے مریم تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اور پھر فرمایا یا مریم نفخت فیک من روح الصدق یعنی اے مریم میں نے صدق کی روح تجھ میں پھونک دی ( گویا استعارہ کے رنگ میں مریم صدق سے حاملہ ہوگئی ) اور پھر آخر میں فرمایا یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی۔