لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 597

لیکچر لاہور — Page 184

روحانی ختنه ائن جلد ۲۰ ۱۸۲ لیکھر لاہور بعض سناتن دھرم کے پنڈتوں سے میں نے سُنا ہے کہ وہ بھی اپنے ایک اوتار کے ظاہر ہونے کا زمانه اسی زمانہ کو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آخری اوتار ہے جس سے تمام زمین میں دھرم پھیل جائے گا۔ اور آریہ صاحبان اگر چہ کسی پیشگوئی کے قائل تو نہیں تا ہم اس ہوا کی تاثیر سے جو چل رہی ہے وہ بھی ہمت اور کوشش کر رہے ہیں کہ ایشیا اور یورپ اور امریکہ اور جاپان وغیرہ ممالک میں انہی کا مذہب پھیل جائے اور عجیب تریہ کہ بدھ مذہب والوں میں بھی نئے سرے یہی جوش پیدا ہو گیا ہے اور زیادہ تر ہنسی کی بات یہ ہے کہ اس ملک کے چوہڑے یعنی بھنگی بھی اس فکر میں پڑ گئے ہیں کہ کسی طرح وہ دوسری قوموں کی زد اور دست برد سے بچیں اور ان کو بھی کم سے کم اپنے مذہب کی حفاظت کی ایک طاقت حاصل ہو جائے ۔ غرض اس زمانہ میں ایک ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ ہر ایک فرقہ اپنی قوم اور اپنے مذہب کی ترقی کا بڑے جوش سے خواہاں ہے اور چاہتے ہیں کہ دوسری قوموں کا نام ونشان نہ رہے جو کچھ ہوں وہی ہوں ۔ اور جس طرح سمندر کے تلاطم کے وقت ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے اسی طرح مختلف مذاہب ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں۔ بہر حال ان تحریکوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ زمانہ (۳۷) وہی زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ مختلف فرقوں کو ایک قوم بنادے اور ان مذہبی جھگڑوں کو ختم کر کے آخر ایک ہی مذہب میں سب کو جمع کر دے۔ اور اسی زمانہ کی نسبت جو تلاطم امواج کا زمانہ ہے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنُهُمْ جَمْعًا ۔ اس آیت کو پہلی آیتوں کے ساتھ ملا کر یہ معنے ہیں کہ جس زمانہ میں دنیا کے مذاہب کا بہت شور اُٹھے گا اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر ایسا پڑے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنا چاہیں گے تب آسمان وزمین کا خدا اس تلاطم امواج کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے بغیر دنیوی اسباب کے ل الكهف : ١٠٠