لیکچر لاہور — Page 177
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۵ لیکچر لاہور حصہ دوم تقریر اے معزز سامعین ! اب میں اپنے ایک دعویٰ کی نسبت جو میں نے اس ملک میں شائع کیا ہے آپ کی خدمت میں کچھ بیان کروں گا۔ یہ بات عقل اور نقل سے ثابت ہے کہ جب دنیا میں گناہ کی تاریکی غالب ہو جاتی ہے اور زمین پر ہر ایک قسم کی بدی اور بدکاری پھیل جاتی ہے اور روحانیت کم ہو جاتی ہے اور گناہوں سے زمین ناپاک ہو کر اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ایک زہریلی ہوا چلنے لگتی ہے تو اس وقت رحمت الہی تقاضا فرماتی ہے کہ زمین کو دوبارہ زندہ کرے۔ جس طرح جسمانی موسموں کو دیکھتے ہو کہ ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ خزاں کا ہوتا ہے کہ اس میں درختوں کے پھولوں اور پھلوں اور پتوں پر بلا آتی ہے اور درخت ایسے بدنما ہو جاتے ہیں جیسے کوئی مرض دق سے نہایت درجہ دبلا ہو جاتا ہے اور اُس میں خون کا نشان نہیں رہتا اور چہرہ پر مردہ پن کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں یا جیسے کسی جذامی کا جذام انتہا درجہ تک پہنچ کر اعضا گر نے لگ جاتے ہیں۔ پھر دوسرا زمانہ درختوں پر وہ آتا ہے جس کو موسم بہار کہتے ہیں۔ اس موسم میں درختوں کی صورتیں ایک دوسرا رنگ پکڑ لیتی ہیں اور پھل اور پھول اور خوشنما اور سرسبز پتے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہی حالت نوع انسان کی ہے کہ تاریکی اور روشنی نوبت یہ نوبت اُن پر وارد ہوتی رہتی ہے۔ کسی صدی میں وہ خزاں کے موسم کی طرح انسانی کمال کے حسن سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں اور کسی وقت آسمان سے اُن پر ایسی ہوا چلتی ہے کہ اُن کے دلوں میں موسم بہار پیدا ہونے لگتی ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہی دونوں موسم انسانوں کے لا زم حال رہے ہیں۔ سو یہ زمانہ بھی جس میں ہم ہیں بہار کی ابتدا کا زمانہ ہے پنجاب پر خزاں کا زمانہ اس وقت زور میں تھا جس وقت اس ملک پر خالصہ قوم حکمران تھی کیونکہ علم نہیں رہا تھا اور ملک میں جہالت بہت پھیل گئی تھی اور دینی کتابیں ایسی گم ہو گئی تھیں کہ شاید کسی بڑے