لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 597

لیکچر لاہور — Page 176

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۴ لیکچر لاہور ۲۸ ابھی وہ وقت نہیں کہ تم ایسا کرو اور اگر ایسا کرو گے تو ایک زہرناک بیج قوم میں پھیلا ؤ گے۔ یہ زمانہ ایک ایسا نازک زمانہ ہے کہ اگر کسی زمانہ میں پردہ کی رسم نہ ہوتی تو اس زمانہ میں ضرور ہونی چاہیے تھی کیونکہ کل جنگ ہے اور زمین پر بدی اور فسق و فجور اور شراب خواری کا زور ہے اور دلوں میں دہر یہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے احکام کی دلوں میں سے عظمت اُٹھ گئی ہے۔ زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں۔ ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیٹریوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔ اے دوستو ! اب طاعون سر پر ہے اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ سے علم دیا گیا ہے۔ ابھی بہت سا حصہ اس کا باقی ہے۔ بہت خطرناک دن ہیں معلوم نہیں کہ آئندہ مئی تک کون زندہ ہوگا اور کون مرجائے گا اور کس گھر پر بلا آئے گی اور کس کو بچایا جائے گا۔ پس اُٹھو! اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔ اور یا درکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہند و یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے ۔ تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔ سو اپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے یعنی طاعون کے زور کا دن جس کی نبیوں نے خبر دی ہے۔ تم خدا سے صلح کر لو۔ وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کی گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ اور یہ مت کہو کہ تو بہ مظور نہیں ہوتی۔ یادرکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ ہمیشہ فضل بچاتا ہے نہ اعمال۔ اے خدائے کریم ورحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔ آمین