لیکچر لاہور — Page 175
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۳ لیکچر لاہور حالانکہ اس بیوی کا تعلق زوجہ ہونے کا اپنے شوہر سے قائم ہے اور وہ اس کی بیوی کہلاتی ہے ﴿۲۷﴾ اور نہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ خود بیوی ایسی حرکت پر خود آمادہ ہو حالانکہ اس کا خاوند زندہ موجود ہے ۔ انسان تو انسان ہے یہ غیرت تو بعض حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی مادہ کی نسبت ایسا روا نہیں رکھتے۔ میں اس جگہ کوئی بحث کرنا نہیں چاہتا سراسر ادب اور منت سے آریہ صاحبوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر اس عقیدہ کو چھوڑ دیں تو بہت بہتر ہوگا۔ پہلے سے ہی یہ ملک حقیقی پاکیزگی کے مقام سے بہت منزل ہے پھر اگر عورتوں اور مردوں میں ایسی ایسی باتیں بھی رواج پاگئیں تو معلوم نہیں کہ اس ملک کا کیا انجام ہوگا ۔ ساتھ ہی میں ایک اور عرض کے لئے جرات کرتا ہوں کہ گو آریہ صاحبوں کو اس زمانہ میں مسلمانوں سے کیسی ہی نفرت ہے اور اسلام کے عقائد سے کیسی ہی بیزاری ہے مگر برائے خدا پردہ کی رسم کو بکلی الوداع نہ کہہ دیں کہ اس میں بہت سی خرابیاں ہیں جو بعد میں معلوم ہوں گی ۔ یہ بات ہر ایک فہیم انسان سمجھ سکتا ہے کہ بہت سا حصہ انسانوں کا نفس امارہ کے ماتحت چل رہا ہے اور وہ اپنے نفس کے ایسے قابو ہیں کہ اس کے جوشوں کے وقت کچھ بھی خدا تعالیٰ کی سزا کا دھیان نہیں رکھتے ۔ جوان اور خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر بد نظری سے باز نہیں آتے اور ایسے ہی بہت سی عورتیں ہیں کہ خراب دلی سے بیگانہ مردوں کی طرف نگاہیں کرتی ہیں۔ اور جب فریقین کو باوجود ان کی اس خراب حالت میں ہونے کے پوری آزادی دی جائے تو یقیناً ان کا وہی انجام ہوگا جیسا کہ یورپ کے بعض حصوں سے ظاہر ہے۔ ہاں جب یہ لوگ در حقیقت پاک دل ہو جائیں گے اور اُن کی امارگی جاتی رہے گی اور شیطانی روح نکل جائے گی اور ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف پیدا ہو جائے گا اور ان کے دلوں میں خدا کی عظمت قائم ہو جائے گی اور وہ ایک پاک تبدیلی کر لیں گے اور خدا ترسی کا ایک پاک چولا پہن لیں گے تب جو چاہیں سوکریں کیونکہ اس وقت وہ خدا کے ہاتھ کے خوجے ہوں گے گویا وہ مرد نہیں ہیں اور اُن کی آنکھیں اس بات سے اندھی ہوں گی کہ نامحرم عورت کو بدنظری سے دیکھے سکیں یا ایسا بد خیال دل میں لاسکیں مگر اے پیارو! خدا آپ تمہارے دلوں میں الہام کرے۔