لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 597

لیکچر لاہور — Page 169

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۷ لیکچر لاہور کیا مگر زنا کے لوازم پیدا کر لئے ہیں اور یا اُس کو کوئی ایسی مرض ہو گئی ہے جس سے تعلق قائم رکھنے کی حالت میں خاوند کی ہلاکت ہے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو گیا ہے جو خاوند کی نظر میں طلاق کا موجب ہے تو ان سب صورتوں میں طلاق دینے میں خاوند پر کوئی اعتراض نہیں ۔ اب پھر ہم اصل مقصود کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ یقیناً یا د رکھو کہ حضرات مسیحیوں کے پاس نجات اور گناہ سے رکنے کا کوئی حقیقی ذریعہ موجود نہیں کیونکہ نجات کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں کہ انسان کی ایسی حالت ہو جائے کہ گناہوں کے ارتکاب پر دلیری نہ کر سکے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر ترقی کرے کہ نفسانی محبتیں اُس پر غالب نہ آسکیں اور ظاہر ہے کہ یہ حالت بجز معرفت تامہ کے پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اب جب ہم قرآن شریف کو دیکھتے ہیں تو ہم اس میں کھلے طور پر وہ وسائل پاتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی معرفت تامہ حاصل ہو سکے اور پھر خوف غالب ہو کر گناہوں سے رک سکیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اُس کی پیروی سے مکالمہ مخاطبہ الہیہ نصیب ہو جاتا ہے اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں اور انسان خدا سے علم غیب پاتا ہے اور ایک محکم تعلق اس سے پیدا ہو جاتا ہے اور دل خدا کے وصال کے لئے جوش مارتا ہے اور اس کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتا ہے اور دعائیں قبول ہو کر اطلاع دی جاتی ہے اور ایک دریا معرفت کا جاری ہو جاتا ہے جو گناہ سے روکتا ہے۔ اور پھر جب ہم انجیل کی طرف آتے ہیں تو گناہ سے بچنے کے لئے صرف اُس میں ایک غیر معقول طریق پاتے ہیں جس کو ازالہ گناہ سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ عجیب ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے انسانیت کی کمزوریاں تو بہت دکھلائیں اور خدائی کی کوئی خاص قوت ظاہر نہ ہوئی جو غیر سے ان کو امتیاز دیتی تا ہم وہ مسیحیوں کی نظر میں خدا کر کے مانے گئے۔ اب ہم آریہ مذہب پر مختصر طور سے نظر کرتے ہیں کہ گناہ سے بچنے کے لئے ان کے مذہب میں کیا سامان پیش کیا گیا ہے۔ پس واضح ہو کہ آریہ صاحبوں کی وید مقدس نے سرے سے آئندہ زمانہ کے لئے خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ اور آسمانی نشانوں سے انکار کر دیا ہے۔