لیکچر لاہور — Page 161
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۹ لیکچر لاہور اور جب وہ چشمہ نہر کی صورت پر آجاتا ہے اور قوت ایمانی بڑھ جاتی ہے اور محبت الہی نشو ونما پانے لگتی ہے تب اُن کو ایک اور شربت پلایا جاتا ہے جو کھیلی شربت کہلاتا ہے یعنی پہلے تو وہ کافوری شربت پیتے ہیں جس کا کام صرف اس قدر ہے کہ دنیا کی محبت اُن کے دلوں پر سے ٹھنڈی کر دے لیکن بعد اس کے وہ ایک گرم شربت کے بھی محتاج ہیں تا خدا کی محبت کی گرمی اُن میں بھڑ کے کیونکہ صرف بدی کا ترک کرنا کمال نہیں ہے۔ پس اسی کا نام زنجبیلی شربت ہے اور اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جس کے معنے ہیں خدا کی راہ پوچھ۔ اور پھر ایک مقام میں فرمایا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا یعنی نفسانی گرفتاریوں سے وہ شخص نجات پا گیا اور بہشتی زندگی کا مالک ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک بنالیا۔ اور ناکام اور نامرادر رہا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو زمین میں دھنسایا اور آسمان کی طرف رخ نہ کیا۔ اور چونکہ یہ مقامات صرف انسانی سعی سے حاصل نہیں ہو سکتے اس لئے جابجا قرآن شریف میں دعا کی ترغیب دی ہے اور مجاہدہ کی طرف رغبت دلائی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی دعا کرو کہ میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور پھر فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا فِى لَعَلَهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی اگر میرے بندے میرے وجود سے سوال کریں کہ کیونکر اس کی ہستی ثابت ہے اور کیونکر سمجھا جائے کہ خدا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں ۔ میں اپنے پکارنے والے کو جواب دیتا ہوں۔ اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی آواز سنتا ہوں ۔ اور اُس سے ہم کلام ہوتا ہوں ۔ پس چاہیے کہ اپنے تئیں ایسے بناویں کہ میں اُن سے ہم کلام ہو سکوں ۔ اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا اُن کو میری راہ ملے ۔ اور پھر فرماتا ہے۔ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کے یعنی جو لوگ ہماری راہ میں اور ہماری طلب کے لئے طرح طرح کی کوششیں اور محنتیں کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھلا دیتے ہیں ۔ اور پھر فرماتا ہے ۔ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِینَ ۔ یعنی اگر خدا سے ملنا چاہتے ہو تو ل الشمس : ١١١٠ ٢ المؤمن: ١٣٦١ البقرة : ۱۸۷ ۲ - العنكبوت : ۷٠ هـ التوبة : ١١٩