لیکچر لاہور

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 597

لیکچر لاہور — Page 157

روحانی خزائن جلد ۲۰ لیکچر لاہور مانند ہیں۔ انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اُس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور با ایں ہمہ غیر محدود ہے۔ انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی (9) کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لئے اس کی تو حید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔ پھر اس سے آگے آیت مدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے ۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ تو حید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے اور اعمال کے متعلق یہ آیت جامع قرآن شریف میں ہے: اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْي۔ یعنی خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو اور عدل پر قائم ہو جاؤ۔ اور اگر اس سے زیادہ کامل بننا چاہو تو پھر احسان کرو یعنی ایسے لوگوں سے سلوک اور نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی اور اگر اس سے بھی زیادہ کامل بننا چاہو تو محض ذاتی ہمدردی سے اور محض طبعی جوش سے بغیر نیت کسی شکر یا ممنون منت کرنے کے بنی نوع سے نیکی کرو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے فقط اپنے طبعی جوش سے نیکی کرتی ہے اور فرمایا کہ خدا تمہیں اس سے منع کرتا ہے کہ کوئی زیادتی کرو یا احسان جتلاؤ یا سچی ہمدردی کرنے والے کے کافر نعمت بنو اور اسی آیت کی تشریح میں ایک اور مقام میں فرماتا ہے۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا و النحل : ٩١