لیکچر لاہور — Page 153
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۱ لیکچر لاہور کا محتاج ہے نہ کسی کفارہ کا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کو وہ معرفت تامہ حاصل (0) ہوتی جو کامل خوف کو پیدا کرتی ہے تو وہ کبھی غرق نہ ہوتی۔ اور اگر لوط کی قوم کو وہ پہچان بخشی جاتی تو ان پر پتھر نہ برستے۔ اور اگر اس ملک کو ذات الہی کی وہ شناخت عطا کی جاتی جو بدن پر خوف سے لرزہ ڈالتی ہے تو اس پر طاعون سے وہ تباہی نہ آتی جو آگئی مگر ناقص معرفت کوئی فائدہ پہنچا نہیں سکتی اور نہ اس کا نتیجہ جو خوف اور محبت ہے کامل ہوسکتا ہے۔ ایمان جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور محبت جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور خوف جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور معرفت جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور ہر یک غذا اور شربت جو کامل نہیں وہ بے سود ہے۔ کیا تم بھوک کی حالت میں صرف ایک دانہ سے سیر ہو سکتے ہو؟ یا پیاس کی حالت میں صرف ایک قطرہ سے سیراب ہو سکتے ہو؟ پس اے سُست ہمتو! اور طلب حق میں کا ہلو! تم تھوڑی معرفت سے اور تھوڑی محبت سے اور تھوڑے خوف سے کیونکر خدا کے بڑے فضل کے امیدوار ہو سکتے ہو؟ گناہ سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اور اپنی محبت سے دل کو پُر کر دینا اسی قادر و توانا کا فعل ہے اور اپنی عظمت کا خوف کسی دل میں قائم کرنا اُسی جناب کے ارادہ سے وابستہ ہے۔ اور قانون قدرت قدیم سے ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ معرفت کا ملہ کے بعد ملتا ہے۔ خوف اور محبت اور قدردانی کی جڑھ معرفت کا ملہ ہے پس جس کو معرفت کا ملہ دی گئی اس کو خوف اور محبت بھی کامل دی گئی اور جس کو خوف اور محبت کامل دی گئی اُس کو ہر ایک گناہ سے جو بیا کی سے پیدا ہوتا ہے نجات دی گئی ۔ پس ہم اس نجات کے لئے نہ کسی خون کے محتاج ہیں اور نہ کسی صلیب کے حاجتمند اور نہ کسی کفارہ کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ ہم صرف ایک قربانی کے محتاج ہیں جو اپنے نفس کی قربانی ہے۔ جس کی ضرورت کو ہماری فطرت محسوس کر رہی ہے۔ ایسی قربانی