لیکچر لاہور — Page 152
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۵۰ لیکچر لاہور (۴) پھر کیا سبب ہے کہ اس موت کی تم کچھ بھی پروا نہیں کرتے کہ جو خدا کے حکموں کے توڑنے سے تم پر وارد ہو جائے گی ۔ ظاہر ہے کہ اس کا یہی سبب ہے کہ اس جگہ تمہیں ایسی معرفت بھی حاصل نہیں جیسا کہ تمہیں سانپ اور زہر کی معرفت حاصل ہے یعنی اُن چیزوں کی پہچان ہے یہ بالکل یقینی ہے اور کوئی منطق اس حکم کو تو ڑ نہیں سکتی کہ معرفت تا مہ انسان کو ان تمام کاموں سے روکتی ہے جن میں انسان کے جان یا مال کا نقصان ہوا اور ایسے رکنے میں انسان کسی کفارہ کا محتاج نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بد معاش لوگ بھی جو جرائم کے عادی ہوتے ہیں ہزاروں ایسے نفسانی جذبات سے دستکش ہو جاتے ہیں جن میں وہ یقیناً جانتے ہیں کہ دست بدست پکڑے جائیں گے اور سخت سزائیں دی جائیں گی ۔ اور تم دیکھتے ہو کہ وہ لوگ روز روشن میں ایسی دوکانوں کے لوٹنے کے لئے حملہ نہیں کر سکتے جن میں ہزار ہا روپے کھلے پڑے ہیں اور ان کے رستہ پر بیسیوں پولیس کے سپاہی ہتھیاروں کے ساتھ دورہ کر رہے ہیں ۔ پس کیا وہ لوگ چوری یا استحصال بالجبر سے اس لئے رکتے ہیں کہ کسی کفارہ پر اُن کو پختہ ایمان ہے یا کسی صلیبی عقیدہ کا اُن کے دلوں پر رعب ہے؟ نہیں بلکہ محض اس لئے کہ وہ پولیس کی کالی کالی وردیوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان کی تلواروں کی چمک سے اُن کے دلوں پر لرزہ پڑتا ہے اور اُن کو اس بات کی معرفت تامہ حاصل ہے کہ وہ دست درازی سے ماخوذ ہو کر معا جیل خانہ میں بھیجے جائیں گے اور اس اصول پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوانات بھی پابند ہیں۔ ایک حملہ کرنے والا شیر جلتی ہوئی آگ میں اپنے تئیں نہیں ڈال سکتا گو کہ اس کے دوسری طرف ایک شکار بھی موجود ہو اور ایک بھیڑیا ایسی بکری پر حملہ نہیں کر سکتا جس کے سر پر مالک اس کا معہ ایک بھری ہوئی بندوق اور کچھی ہوئی تلوار کے کھڑا ہے۔ پس اے پیارو! یہ نہایت سچا اور آزمودہ فلسفہ ہے کہ انسان گناہ سے بچنے کے لئے معرفت تامہ