لیکچر لاہور — Page 151
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴۹ لیکچر لاہور حسن و جمال پر اطلاع پاکر کامل محبت اور عشق کا حصہ لیوے اور تا وہ قطع تعلق کی حالت کو (۳) جہنم سے زیادہ سمجھے۔ یہ سچی بات ہے کہ گناہ سے بچنا اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جانا انسان کے لئے ایک عظیم الشان مقصود ہے اور یہی وہ راحت حقیقی ہے جس کو ہم بہشتی زندگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ تمام خواہشیں جو خدا کی رضا مندی کے مخالف ہیں دوزخ کی آگ ہیں اور ان خواہشوں کی پیروی میں عمر بسر کرنا ایک جہنمی زندگی ہے مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس جہنمی زندگی سے نجات کیونکر حاصل ہو ؟ اس کے جواب میں جو علم خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس آتش خانہ سے نجات ایسی معرفت الہی پر موقوف ہے جو حقیقی اور کامل ہو کیونکہ نفسانی جذبات جو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں وہ ایک کامل درجہ کا سیلاب ہے جو ایمان کو تباہ کرنے کے لئے بڑے زور سے بہ رہا ہے۔ اور کامل کا تدارک بجز کامل کے غیر ممکن ہے۔ پس اسی وجہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک کامل معرفت کی ضرورت ہے کیونکہ مثل مشہور ہے کہ لوہے کو لوہے کے ساتھ ہی توڑ سکتے ہیں۔ یہ امر زیادہ دلائل کا محتاج نہیں کہ قدردانی اور محبت اور خوف یہ سب امور معرفت یعنی پہچاننے سے ہی پیدا ہوتے ہیں اگر ایک بچہ کے ہاتھ میں مثلاً ایک ایسا ٹکڑا ہیرے کا دیا جائے جس کی کئی کروڑ روپیہ قیمت ہو سکتی ہے تو وہ صرف اس کی اُسی حد تک قدر کرے گا جیسا کہ ایک کھلونے کی قدر کرتا ہے۔ اور اگر ایک شخص کو اس کی لاعلمی کی حالت میں شہر میں زہر ملا کر دیا جائے تو وہ اُسے شوق سے کھائے گا اور یہ نہیں سمجھے گا کہ اس میں میری موت ہے کیونکہ اس کو ایسے شہد کی معرفت نہیں لیکن تم دانستہ ایک سانپ کے سوراخ میں ہاتھ ڈال نہیں سکتے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ ایسے کام سے مرنے کا اندیشہ ہے۔ ایسا ہی تم ایک ہلا ہل زہر کو دیدہ و دانستہ کھا نہیں سکتے کیونکہ تمہیں یہ معرفت حاصل ہے کہ اس زہر کے کھانے سے مر جاؤ گے