کتاب البریہ — Page 51
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱ کتاب البرية سے سخت انکاری ہوئے اور بالاتفاق کہا کہ یہ عوئی اس مسلسل تعلیم کے برخلاف ہے کہ جو توریت اور دوسری کتابوں سے خدا کے نبیوں کی معرفت چودہ سو برس سے آج تک ہمیں ملتی رہی ہے۔ سوعیسائی عقیدہ کے بطلان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ جس تعلیم کو سچی اور منجانب اللہ سمجھتے ہیں وہی تعلیم ان کے جدید عقیدہ کی مکذب ہے ۔ اور ان کے اس عقیدہ سے ایسی کھلی کھلی مخالف ہے کہ کبھی کسی یہودی کو یہ شک بھی نہیں گذرا کہ اس تعلیم میں تثلیث بھی داخل ہے۔ ہاں عیسائی لوگ پیشگوئیوں کی طرف ہاتھ پیر مارتے ہیں مگر یہ خیال نہایت ہنسی کی بات اور قابل شرم ہے کیونکہ جن نبیوں کی یہ موحدانہ تعلیم تھی جو مسلسل طور پر یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی آئی کیونکر ممکن تھا کہ ایسے انبیاء علیہم السلام اپنی تعلیم کے مخالف پیشگوئیاں بیان کرتے اور اپنی تعلیم اور پیشگوئیوں میں ایسا تناقض ڈال دیتے کہ تعلیم کا تو کچھ اور منشا اور پیشگوئیوں کا کچھ اور ہی منشا ہو جاتا۔ اور اس جگہ منتظمند کے لئے یہ ایک نکتہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں مگر تعلیم کے لئے تصریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیشگوئی کا تناقض معلوم ہوتو یہ لازم ہوتاہے کہ تعلیم کو مقدم رکھا جائے ۔اور پیشگوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔ بہر حال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہیے۔ کیونکہ تعلیم علاوہ تری اور تفصیل کے اکثر معرض افادہ استفادہ میں آتی رہتی ہے۔ لہذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے برخلاف پیشگوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشتہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بالکل بچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیشگوئیوں پر مقدم رکھا اور پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں ۔ مگر عیسائیوں نے پیشگوئیوں ۳۱ کے وہ معنے گئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح