کتاب البریہ — Page 22
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲ کتاب البرية یہ مرہم پوشیدہ راز کا نہایت یقینی طور پر پتہ لگاتی ہے اور قطعی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کیونکہ اس مرہم کا تذکرہ صرف اہل اسلام کی ہی کتابوں میں نہیں کیا گیا بلکہ قدیم سے عیسائی یہودی مجوسی اور اطباء اسلام اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے آئے ہیں۔ اور نیز یہ بھی لکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار کی گئی تھی۔ حسن اتفاق سے یہ سب کتابیں موجود ہیں اور اکثر چھپ چکی ہیں اگر کسی کو سچائی کا پتہ لگانا اور راستی کا سراغ چلانا منظور ہوتو ضرور ان کتابوں کا ملا حظہ کرے شاید آسمانی روشنی اس کے دل پر پڑ کر ایک بھاری بلا سے نجات پا جائے اور حقیقت کھل جائے۔ اس مرہم کو ادنی ادنی طبابت کا مذاق رکھنے والے بھی جانتے ہیں یہاں تک کہ قرابادین قادری میں بھی جو ایک فارسی کی کتاب ہے تمام مرہموں کے ذکر کے باب میں اس مرہم کا نسخہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہی مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنائی گئی تھی ۔ پس اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ دنیا کے تمام طبیبوں کے اتفاق سے جو ایک گروہ خواص ہے جن کو سب سے زیادہ تحقیق کرنے کی عادت ہوتی ہے اور مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار کی تھی۔ ایک عجیب فائدہ اس مرہم کے واقعہ کا یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسی کے آسمان پر چڑھنے کی بھی ساری حقیقت کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ یہ تمام باتیں بے اصل اور بے ہودہ تصورات ہیں۔ اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ رفع جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے حقیقت میں وفات کے بعد نوٹ ۔ ہم پہلی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں کہ امام بخاری اور امام ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہم اور دوسرے ائمہ کبار کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں۔ اب واضح رہے کہ شیخ محی الدین ابن العربی کا بھی یہی مذہب ہے۔ چنانچہ وہ نزول کی حقیقت اپنی تفسیر کے