کتاب البریہ — Page 21
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱ کتاب البرنيه اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اس شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کر کے مشہور ہے جس کے معنے ہیں کہ یسوع غم ناک ۔ اور جب پلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور اس نے اس کو دھمکایا کہ اگر یسوع مارا گیا تو تمہاری تباہی ہوگی یہی اشارہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بچانے کے لئے تھا۔ ایسا دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ اس طرح پر کسی راستباز کی حمایت کے لئے فرشتہ ظاہر ہوا ہو اور پھر رویا میں فرشتہ کا ظاہر ہونا عبث اور لا حاصل گیا ہو اور جس کی سفارش کے لئے آیا ہو وہ ہلاک ہو گیا ہو ۔ غرض یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس وقت کے یہودی اپنے ارادہ میں نامرادر ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام جس کو ٹھے میں رکھے گئے تھے جو قبر کے نام سے مشہور تھا اور دراصل ایک بڑا وسیع کوٹھا تھا وہ اس سے تیسرے دن بخیر و عافیت باہر آگئے اور شاگردوں کو ملے اور ان کو مبارک باد دی کہ میں خدا کے فضل سے دنیوی زندگی کے ساتھ بدستور اب تک زندہ ہوں اور پھر ان کے ہاتھ سے لے کر روٹی اور کباب کھائے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے اور چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرابادینوں میں مرہم عیسی یا مرہم رسل یا مرہم حوار تین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے اور قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے اس کو بنایا گیا تھا۔ وہ پرانی طب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں ان میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسی کا لکھا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہیں دنوں میں خدا تعالیٰ نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں ۔