کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 630

کتاب البریہ — Page 20

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰ کتاب البرية نہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا ۔ لہذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ (۲) ناکام اور شرمندہ رہتے ہیں اور ان کی بدی سے راستبازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے وہ قوی اور قادر خدا اگر چہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔ اور بداندیشوں کے حملے راستبازوں پر قدیم سے ہوتے چلے آئے ہیں۔ مجھ سے پہلے یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی ارادہ کیا کہ ناحق مجرم ٹھہرا کر سولی دلا دیں مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنے اس مقبول کو بچالیا۔ اس نے پیلاطوس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ شخص بے گناہ ہے اور فرشتہ نے خواب میں اس کی بیوی کو ایک رُعب ناک نظارہ میں ڈرایا کہ اس شخص کے مصلوب ہونے میں تمہاری تباہی ہے۔ پس وہ ڈر گئے اور اس نے اپنے خاوند کو اس بات پر مستعد کیا کہ کسی حیلہ سے مسیح کو یہودیوں کے بدارادہ سے بچالے۔ پس اگر چہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جو کسی کے مارنے کے لئے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کر بچالیا گیا کہ اس کی تو جان نکل گئی۔ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خدا کا مقبول اور راستباز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مر کز یعنی صلیب کے ذریعہ سے جان دے کر اس لعنت کا حصہ نہ لیوے جو روز ازل سے ان شریروں کے لئے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور در حقیقت جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے وہ خدا کے دشمن اور خدا ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس کیونکر وہ لعنت جس کا یہ نا پاک مفہوم ہے ایک برگزیدہ پر وارد ہوسکتی ہے؟ سو اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے ۔ اور جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ کشمیر میں آ کر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔ اور لوگ بہت تعظیم ۔