کتاب البریہ — Page 338
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۳۸ سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ چنانچہ صاحب چیف کمشنر بہادر پنجاب کی چٹھی نمبری ۵۷۶ مورخہ ۰ار اگست ۱۸۵۵ء میں یہ مفصل بیان ہے کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیاں کیسے سرکار انگریزی کے بچے وفا دار اور نیک نام رئیس تھے اور کس طرح ان سے ۱۸۵۷ء میں رفاقت اور خیر خواہی اور مددد ہی سرکار دولت مدار انگلشیہ ظہور میں آئی اور کس طرح وہ ہمیشہ بدل ہوا خواہ سرکا ر ر ہے۔ گورنمنٹ عالیہ اس چٹھی کو اپنے دفتر سے نکال کر ملاحظہ کر سکتی ہے۔ اور رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر لاہور نے بھی اپنے مراسلہ میں جو میرے والد صاحب مرزاغلام مرتضیٰ کے نام ہے چٹھی مذکورہ بالا کا حوالہ دیا ہے جس کو میں ذیل میں لکھتا ہوں۔ " تهور و شجاعت دستگاه مرزا غلام مرتضی رئیس قادیاں بعافیت باشند - از انجا کہ ہنگام مفسده ہندوستان موقوعہ ۱۸۵۷ء از جانب آپ کے رفاقت و خیر خواهی و مدد دہی سرکار دولت مدار انگلشیہ در باب نگاهداشت سواران و بهم رسانی اسپان بخوبی بمنصہ ظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آج تک آپ بدل ہوا خواہ سرکا ر ر ہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہذا بجلد وی اس خیر خواہی اور خیر سگالی کے خلعت مبلغ دوصد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چیٹھی صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۵۷۶ مورخه ۱۰ اگست ۱۸۵۸ء پروانه هذا باظہار خوشنودی سرکارو نیکنامی و وفاداری بنام آپ کے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ تاریخ ۲۰ ستمبر ۱۸۵۵ء۔ اور اسی بارے میں ایک مراسلہ سر رابرٹ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر بہادر کا میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر کے نام ہے جو کچھ عرصہ سے فوت ہو گئے ہیں اور وہ یہ ہے۔ مشفق مهربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حـفـظـہ۔ آپ کا خط ۲ / ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور اینجانب میں گذرا۔ مرزا غلام مرتضی صاحب آپ کے والد کی وفات سے ہم کو بہت افسوس ہوا۔ مرزاغلام مرتضی سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپ کے خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کریں گے جس طرح تمہارے باپ وفادار کی