کتاب البریہ — Page 333
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۳۳ جب کبھی وہ حالت میسر نہ ہو تب دعا کا قبول ہونا ضروری نہیں ۔ وہ حالت یہ ہے کہ کسی کی نسبت نیک دعا یا بددعا کے لئے اہل اللہ کا دل چشمہ کی طرح یکدفعہ پھوٹتا ہے اور فی الفور ایک شعلہ نور آسمان سے گرتا اور اس سے اتصال پاتا ہے اور ایسے وقت میں جب دعا کی جاتی ہے تو ضرور قبول ہو جاتی ہے ۔ سو یہی وقت مجھے اس بزرگ کے لئے میسر آیا۔ میں ان لوگوں کی روز کی تکذیبوں اور لعنت اور ٹھٹھے اور ہنسی کے دیکھنے سے تھک گیا۔ میری روح اب رب العرش کی جناب میں روروکر فیصلہ چاہتی ہے ۔اگر میں در حقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں مردود اور مخذول ہوں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھا تو میں خود ایسی زندگی نہیں چاہتا جو لعنتی زندگی ہو ۔ اگر میرے پر آسمان سے بھی لعنت ہے جیسا کہ زمین سے لعنت ہے تو میری روح اوپر کی لعنت کی برداشت نہیں کر سکتی ۔ اگر میں سچا ہوں تو اس بزرگ کی خدا تعالیٰ سے ایسے طور سے پردہ دری چاہتا ہوں جو بطور نشان ہو اور جس سے سچائی کو مدد ملے ۔ ورنہ لعنتی زندگی سے میرا مرنا بہتر ہے۔ میرے صادق یا کاذب ہونے کا یہ آخری معیار ہے جس کو فیصلہ ناطق کی طرح سمجھنا چاہیے۔ میں خدا سے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ اگر میں اس کی نظر میں عزیز (10) ہوں تو وہ اس بزرگ کی ایسے طور سے پردہ دری کرے جواب تک کسی کے خیال و گمان میں نہ ہو ۔ میں جانتا ہوں کہ میرا خدا قادر اور ہر ایک قوت کا مالک ہے۔ وہ ان کے لئے جو اس کے ہوتے ہیں بڑے بڑے عجائبات دکھلاتا ہے۔ ایڈیٹر چودھویں صدی کی جس قدر شوخی ہے اس بزرگ کی حمایت سے ہے اور اس کی تمام تو ہین اور تحقیر کی تحریر میں اسی بزرگ کی گردن پر ہیں ۔ وہ ہنسی سے لکھتا ہے کہ ” میں مخالفت سے نہ کاٹا جاؤں ۔ خدا سے ہنسی کرنا کسی نیک