کتاب البریہ — Page 332
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۳۲ مجھے ہلاک کر ڈال۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں اور مسیح موعود ہوں تو اس شخص کے پردے پھاڑ دے جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے۔ لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیان میں آکر مجمع عام میں تو بہ کرے تو اسے معاف فرما کہ تو رحیم و کریم ہے۔ یہ دعا ہے کہ میں نے اس بزرگ کے حق میں کی مگر مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ بزرگ کون ہے اور کہاں رہتے ہیں اور کس مذہب اور قوم کے ہیں جنہوں نے مجھے کذاب ٹھہرا کر میری پردہ دری کی پیشگوئی کی۔ اور نہ مجھے جاننے کی کچھ ضرورت ہے ۔ مگر اس شخص کے اس کلمہ سے میرے دل کو دکھ پہنچا اور ایک جوش پیدا ہوا تب میں نے دعا کر دی اور یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے یکم جولائی ۱۸۹۸ء تک اس کا فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ سے مانگا۔ اس دعا میں شاید ایک یہ بھی حکمت ہوگی کہ چونکہ آج کل ایک فرقہ نیچریہ مسلمانوں کی گردش ایام سے اسلام میں پیدا ہو گیا ہے اور یہ لوگ قبولیت دعا سے منکر اور اس برتر ہستی کی بے انتہا قدرت سے انکاری ہیں جو عجائب کام دکھلاتا اور اپنے بندوں کی دعائیں قبول کر لیتا ہے۔ گویا نیم دہر یہ ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان کو پھر ایک استجابت دعا کا نمونہ دکھلائے جس کا برکات الدعا کے ایک کشف میں وعدہ بھی ہو چکا ہے اور میرے صدق اور کذب کے لئے یہ ایک اور نشان ہوگا ۔ اگر میں خدا تعالی کی جناب میں در حقیقت ایسا ہی ذلیل اور دجال اور کذاب ہوں جو اس بزرگ نے سمجھا ہے تو میری دعا بے اثر جائے گی اور سال عیسوی کے گذرنے کے بعد میری ذلت ظاہر ہوگی اور روسیاہی نا قابل زوال مجھے اٹھانی پڑے گی۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ کسی کے اہل اللہ ہونے میں اس کی دعا کا قبول ہونا شرط ہے۔ ہر ایک ولی مستجاب الدعواۃ ہوتا ہے اور اس کو وہ حالت میسر آجاتی ہے جو استجابت دعا کے لئے ضروری ہے۔ ہاں