کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 630

کتاب البریہ — Page 330

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۳۰ گیا۔ وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا۔ وہ ناپاکوں میں لکھا گیا تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی اب سمجھے کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو اَنَا الْمَوجُود “ کی آواز آئے۔ ہم نے کفار سے بہت کچھ دیکھا۔ اب خدا بھی کچھ دکھلانا چاہتا ہے۔ سواب تم دیدہ و دانستہ اپنے تئیں مور د غضب مت بناؤ۔ کیا صدی کا سر تم نے نہیں دیکھا ؟ جس پر چودہ برس اور بھی گذر گئے ۔ کیا خسوف کسوف رمضان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا؟ کیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ؟ کیا تمہیں اس ہولناک زلزلہ کی کچھ خبر نہیں جو مسیح کی پیشگوئی کے مطابق ان ہی دنوں میں وقوع میں آیا اور بہت سی بستیوں کو برباد کر گیا۔ اور خبر دی گئی تھی کہ اُس کے متصل مسیح بھی آئے گا؟ کیا تم نے آتھم کی نسبت وہ نشان نہیں دیکھا جو ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آیا جس کی خبر ستر کا برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں دی گئی تھی؟ کیا لیکھرام کی نسبت پیشگوئی اب تک تم نے نہیں سنی ؟ کیا کبھی اس سے پہلے کسی نے دیکھا تھا کہ پہلوانوں کی گشتی کی طرح مقابلہ ہو کر اور لاکھوں انسانوں میں شہرت پا کر اور صد با اشتہارات اور رسائل میں چھپ کر ایسا کھلا کھلا نشان ظاہر ہوا ہو جیسا کہ یکھرام کی نسبت ظاہر ہوا؟ کیا تمہیں اس خدا سے کچھ بھی شرم نہیں آتی جس نے تمہاری تیرھویں صدی کے غم اور صدمے دیکھ کر چودھویں صدی کے آتے ہی تمہاری تائید کی؟ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا کے وعدے عین وقت میں پورے ہوتے ؟ بتلاؤ کہ ان سب نشانوں کو دیکھ کر پھر تمہیں کیا ہو گیا؟ کس چیز نے تمہارے دلوں پر مہر لگادی؟ اے سج دل قوم، خدا تیری ہر ایک تسلی کر سکتا ہے اگر تیرے دل میں صفائی ہو ۔ خدا تجھے کھینچ سکتا ہے اگر تو کھینچے جانے کے لئے طیار ہو۔ دیکھو یہ کیسا وقت ہے۔ کیسی ضرورتیں ہیں۔ جو اسلام کو پیش آ گئیں۔ کیا تمہارا دل گواہی نہیں دیتا کہ یہ وقت خدا کے رحم کا وقت