کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 630

کتاب البریہ — Page 329

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۹ تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔ اگر میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبی کے پاک لبوں نے کیا تھا تو تم نے نہ میرا بلکہ خدا کا گناہ کیا ہے۔ اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ وارد نہ ہوتا کہ اس کو دکھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی جائیں گی تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دکھ دیتے جو تم نے دیا۔ پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے تمہاری کتابوں میں موجود ہیں۔ جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور لعنت کر کے مہر لگا دیتے ہو کہ وہ بدعلماء اور ان کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔ میں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مثالوں پر کوئی نہیں آیا۔ میں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا۔ پر کسی نے اس طرف رخ نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور رو روکر خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا۔ اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔ خدا نے میری نسبت بچ کہا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در حقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہو۔ اور برباد ہو جائے ؟ پس اے لو گوتم خدا سے مت لڑو۔ یہ وہ کام ہے (1) جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مزاحم مت ہو۔ اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی خدا اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔ افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے۔ اور زمین ضرورت ضرورت بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے ! اے بد بخت قوم اٹھے اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا