کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 630

کتاب البریہ — Page 328

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۸ پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں میں وہ شخص ہوں جو اس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے۔ اور وہ تمام دنیا کے لئے حکم ہو کر آئے گا ۔ اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہوگا ۔ تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعویٰ کو سن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے ؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے؟ کیا آسمانی تائید میں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا ان سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جو احادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بیبا کی دکھلائی گئی ؟ ہاں اگر میرے دعوے میں اب بھی شک تھا یا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی اور خداترسی سے اس شبہ کو دور کرایا ہوتا۔ مگر انہوں نے بجائے تحقیق اور تفتیش کے اس قدر گالیاں اور لعنتیں بھیجیں کہ شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔ پھر ماسوا اس کے میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر میں (د) در حقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک بازو قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حکم اور عدل اور امام اور خلیفة الله رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے لعنتیں بھیجنا اس کو گالیاں دینا جائز تھا ؟ ذرہ اپنے جوش کو تھام کے سوچیں نہ میرے لئے بلکہ اللہ اور رسول کے لئے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کرنا روا تھا؟ میں زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ میرا مقدمہ