کتاب البریہ — Page 318
۳۱۸ روحانی خزائن جلد ۱۳ پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لئے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے ۔ چنانچہ حال میں پر چہ مخبر دکن میں جو مسلمانوں کا ایک اخبار ہے ماہ اپریل کے ایک پر چہ میں اسی بات پر بڑا از وردیا گیا ہے کہ رسالہ امھات مؤمنین کے تلف کرنے یا روکنے کے لئے گورنمنٹ سے ہرگز التجا کرنی نہیں چاہیئے کہ یہ دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ اخبار مذکورہ کی اس رائے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کی یہی رائے ہے کہ اس طریق کو جس کا انجمن مذکور نے ارادہ کیا ہے ہرگز اختیار نہ کیا جائے کہ اس میں کوئی حقیقی اور واقعی فائدہ ایک ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔ اہل علم مسلمان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے مسلمانوں کا کام نہیں ہے اور وہ یہ ہے لَتُبْلُوَنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ سوره آل عمران - ترجمہ یہ ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمائش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے سواگر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہر ایک ناکردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولوالعزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔ یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لئے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہوگا کہ جو کچھ کوئی سخت گوئی کرنا چاہے وہ کر سکے گا جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔ سو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لئے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی ۔ کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں اڈی کثیرا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذا و لسانی کو چاہتا ہے وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اس صدی سے پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر گندے اور ناپاک حملے کرے بلکہ اکثر ان کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں۔ قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بد گوئی کا دروازہ کھلا۔ جس کے اول بانی ہمارے ملک میں پادری فنڈل صاحب تھے۔ بہر حال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دل آزار کلمات سے دکھ دیئے جاؤ اور گالیاں سنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ سو قر آنی پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی اُمت سے ایک حصہ کثیر دنیا کا پر ہے عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا آل عمران: ۱۸۷