کتاب البریہ — Page 317
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۱۷ کہ وہ کتابیں تلف کی جائیں یا اور کوئی انتظام ہو تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فروماندہ دین قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نا مناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر کبھی اس کتاب کا ردولکھنا بھی شروع کر دیں اور در حالت نہ لکھنے جواب کے اس کے فضول اعتراضات نا واقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے۔ اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کر لیا سو اس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا روکا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نا معقول اور بیہودہ طریق ہوگا اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم دردناک دل سے ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب امهات مؤمنین نے استعمال کئے ہیں۔ اور ہم اس مؤلف اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امران لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اگر چہ ہماری جماعت بعض امور میں دوسرے مسلمانوں سے ایک جزئی اختلاف رکھتی ہے مگر اس مسئلہ میں کسی سمجھدار مسلمان کو اختلاف نہیں کہ دینی حمایت کے لئے ہمیں کسی جوش یا اشتعال کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہمارے لئے قرآن میں یہ حکم ہے وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور دوسری جگہ یہ حکم ہے کہ جَادِلْهُمُ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ * ۔ اس کے معنے یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہیے کہ ان کو فائدہ بخشے لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصود کو مفید نہیں ہے۔ یہ دنیا وی جنگ و جدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو العنکبوت : ۴۷ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ النحل کی آیت ۱۲۶ کا حوالہ دے رہے ہیں جو یہ ہے اُدعُ اِلی سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - (اثر )