کتاب البریہ — Page 305
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰۵ اس کے عدالت میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ عبدالحمید براہ راست ڈاکٹر کلارک کے پاس نہیں (۲۶۵) گیا تھا بلکہ اول نورالدین عیسائی کی چٹھی لے کر پادری گرے کے پاس گیا تھا۔ اگر اصل مقصد اس کا ڈاکٹر کلارک کو قتل کرنا ہوتا تو پادری گرے کے ساتھ اس کا کیا کام تھا۔ عدالت میں کسر صلیب کرنے والا ہو کیونکہ مجد د بطور طبیب کے ہے اور طبیب کا کام یہی ہے کہ جس بیماری کا غلبہ ہو اس بیماری کی قلع قمع کی طرف توجہ کرے ۔ پس اگر یہ بات صحیح ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کا کام ہے تو یہ دوسری بات بھی صحیح ہے کہ چودھویں صدی کا مجد د جس کا فرض کسر صلیب ہے مسیح موعود ہے ۔ لیکن اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو کیونکر اور کن وسائل سے کسر صلیب کرنا چاہیئے ؟ کیا جنگ اور لڑائیوں سے جس طرح ہمارے مخالف مولویوں کا عقیدہ ہے؟ یا کسی اور طور سے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی لوگ ( خدا ان کے حال پر رحم کرے۔) اس عقیدہ میں سراسر غلطی پر ہیں ۔ مسیح موعود کا منصب ہر گز نہیں ہے کہ وہ جنگ اور لڑائیاں کرے بلکہ اس کا منصب یہ ہے کہ حجج عقلیہ اور آیات سماویہ اور دعا سے اس فتنہ کو فرو کرے ۔ یہ تین ہتھیار خدا تعالیٰ نے اس کو دیئے ہیں اور تینوں میں ایسی اعجازی قوت رکھی ہے جس میں اس کا غیر ہر گز اس سے مقابلہ نہیں کر سکے گا ۔ آخر اسی طور سے صلیب تو ڑا جائے گا یہاں تک کہ ہر ایک محقق نظر سے اس کی عظمت اور بزرگی جاتی رہے گی اور رفتہ رفتہ تو حید قبول کرنے کے وسیع دروازے کھلیں گے ۔ یہ سب کچھ تدریجا ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے سارے کام تدریجی ہیں ۔ کچھ ہماری حیات میں اور کچھ بعد میں ہو گا ۔ اسلام ابتدا میں بھی تدریجا ہی ترقی پذیر ہوا ہے اور پھر انتہا میں بھی تدریجا اپنی پہلی حالت کی طرف آئے گا۔ بعض نادان مولوی کہتے ہیں کہ اب تک تم نے کونسی کسر صلیب کی؟ پس ان کو یادر ہے