کتاب البریہ — Page 304
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰۴ عبد الرحیم نام کو عبدالحمید کا حال دریافت کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا تو (۲۶۴) میں نے اس کی نسبت کچھ بھی اخفا نہیں کیا بلکہ ظاہر کر دیا کہ وہ اچھا آدمی نہیں اور جو اپنا نام رلیا رام بیان کرتا ہے یہ بیان سراسر جھوٹ ہے ۔ اب عقلمند اسی بات سے سمجھ سکتا ہے کہ اگر میں نے در حقیقت عبد الحمید کو خون کرنے کے لئے بھیجا تھا تو پھر میں اس کی چال چلن سے کیونکر ڈاکٹر کلارک کو متنبہ کرتا ۔ ماسوا ۲۶۵ بڑھا ہوا ہے۔ پھر ایسے لوگوں کی مجاورت کے اثر سے عموما ہر ایک قوم میں بے قیدی اور آزادی بڑھ گئی ہے ۔ اگر چہ لوگ بیماریوں سے ہلاک ہو جائیں اور اگر چہ و با ان کو کھا جائے مگر کسی کو خیال بھی نہیں آتا کہ یہ تمام عذاب شامت اعمال سے ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی تو ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے اور اس ذو الجلال کی عظمت دلوں پر سے گھٹ گئی ہے۔ غرض جیسا کہ کفارہ کی بے قیدی نے یورپ کی قوموں کو شراب خواری اور ہر ایک فسق و فجور پر دلیر کیا ایسا ہی ان کا نظارہ دوسری قوموں پر اثر انداز ہوا۔ اس میں کیا شک ہے کہ فسق و فجور بھی ایک بیماری متعدی ہے ایک شریف عورت کنجریوں کی دن رات صحبت میں رہ کر اگر صریح بدکاری تک نہیں پہنچے گی تو کسی قدر گندے حالات کے مشاہدہ سے دل اس کا ضرور خراب ہوگا۔ غرض صلیبی عقیدہ ہی تمام بے قیدیوں اور آزادیوں کی جڑ ہے اور اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ وہ عقیدہ ان ملکوں میں نہایت خطرناک طور پر پھیل رہا ہے اور کئی لاکھ تک ان لوگوں کا شمار پہنچ گیا ہے کہ جو پادریوں کے دام میں آکر جو ہر ایمان کھو بیٹھے ہیں اور یا پوشیدہ مرتد ہو کر متلاشیوں کے رنگ میں پھرتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی غیرت اور رحمت نے چاہا کہ صلیبی عقیدے کے زہرناک اثر سے لوگوں کو بچاوے اور جس دجالیت سے انسان کو خدا بنایا گیا ہے اس دجالیت کے پر دے کھول دیوے اور چونکہ چودھویں صدی کے شروع تک یہ بلا کمال تک پہنچ گئی تھی ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے چاہا کہ چودھویں صدی کا مجدد