کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 630

کتاب البریہ — Page 291

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۱ كتاب البرية لہذا میں نے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا کہ آپ اس کو اپنی ذمہ واری میں لیں اور آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں ۱۴ اگست کو مسٹر لیمار چنڈ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کو بھیجا کہ وہ عبد الحمید کوئی ایم ایس کوارٹر انار کلی میں جا کر حفاظت کی جگہ سے یہاں لے آؤ۔ اس کو محمد بخش سیدھا مسٹر لیمار چنڈ کے پاس گاڑی میں لے گیا۔ اوّل الذکر شخص اس وقت پہلے سے کسی کام میں مصروف تھا اور کچھ عرصہ کے لئے اس کو جلال الدین انسپکٹر کے سپرد کیا۔ مؤخر الذکر نے کھلے میدان میں محمد بخش و دیگر اشخاص کی موجودگی میں اس سے پوچھا کچھ دیر کے بعد انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ لڑکا اپنے سابقہ بیان پر قائم ہے اور کچھ ایزاد نہیں کرتا اور وہ انار کی واپس جانے کو چاہتا ہے۔ انسپکٹر مذکور نے مسٹر لیمار چنڈ کو اطلاع دی کہ اس کو واپس بھیج دیں۔ موخر الذکر نے اس امر کو اپنا فرض سمجھا کہ جو کچھ نو جوان بیان کرے لکھ لیا جائے اس لئے اس کو بلا بھیجا۔ انہوں نے بیان کے دو تختے کم و بیش اسی شہادت کے مطابق لکھے جو سابق میں عدالت کے سامنے دی گئی تھی کہ نا گہاں نوجوان زار زار رونے لگا اور مسٹر لیمار چنڈ کے پاؤں پر گر پڑا اور کہا کہ میں اس مقدمہ میں عبدالرحیم اور وارث الدین اور پر یمد اس ملا زمان مشن کی سازش سے جن کی تحویل میں وہ رہا برابر جھوٹ بولتا رہا۔ وہ کئی روز تک پہرے میں رکھا گیا۔ وہ سخت مصیبت میں گرفتار رہا اور فی الحقیقت اس نے خودکشی کا ارادہ ۲۵۴ کر لیا تھا۔ لہذا اس نے مسٹر لیمار چنڈ کے سامنے پورا پورا بیان کر دیا۔ لیمار چنڈ صاحب نے شہادت میں بیان کیا کہ اس کے خیال میں جس طرز سے یہ دوسرا بیان ہوا ہے اس سے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اس نے نو جوان کو نہ تو دھمکایا اور نہ اسے کوئی معافی کا وعدہ دیا۔ نوجوان کی صورت حال اور وضع قطع سے میں مقید تھے اور ایک ایسے فرضی دجال اور فرضی مسیح کے منتظر تھے جن کے ماننے سے نئے سرے اس شرک کی بنیاد پڑتی ہے جس کی قرآن شریف بیخ کنی کر چکا ہے اور مسئلہ ختم نبوت بھی ہاتھ سے جاتا ہے سو خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا تا میں اس خطرناک حالت کی اصلاح کروں اور لوگوں کو خالص توحید کی راہ بتاؤں چنانچہ میں نے سب کچھ بتا دیا ۔ اور ۲۵۴ نیز میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر بقیه حاشيه