کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 630

کتاب البریہ — Page 290

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۰ کا مرید ہے اور دوسرا سلطان محمود مخالف ہے۔ اس کا گھر جہلم ہے مگر وہ وہاں بہت ہی کم جاتا ہے کیونکہ اس کے خاندان کے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اس نے بیان کیا کہ اس کے ارادے ونیت ڈاکٹر کلارک کے متعلق بدل گئے کیونکہ وہ اس کو نیک آدمی معلوم ہوا اس کو گجرات مشن کے نکالے جانے کے بعد ایک شخص میراں بخش نامی نے جو مرزا صاحب کا معتقد ہے قادیاں میں جانے کی ہدایت کی تھی۔ اس کی شہادت نے عموماً اس بیان کی تائید کی جو ڈاکٹر کلارک نے دیا ہے۔ تحقیقات ۱۰ / اگست کو شروع ہوئی اور جس شہادت کا یہاں تک ذکر آچکا ہے وہ ۱۳ اگست تک جاری رہی۔ عبدالحمید اس وقت تک بالکل بعض ما تحت عیسائیوں کی نگرانی میں رہا جو سکاچ مشن کے ملازم ہیں۔ خاص کر عبدالرحیم ، وارث الدین، پر یمد اس۔ ڈاکٹر کلارک کی سیہ رائے کہ وہ اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا کہ اس نے افشا کیا ہے۔ ہم نے بذات خود اس کے بیان کو جیسا کہ ہے نہایت ہی بعید العقل خیال کیا۔ اس کے اس بیان میں جو اس نے امرتسر میں (۲۵۳) لکھایا بمقابلہ اس بیان کے جو میرے سامنے لکھایا اختلافات ہیں اور ہم اس کی وضع قطع سے جبکہ وہ شہادت دے رہا تھا مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ علاوہ اس کے ہم نے یہ معلوم کیا کہ جتنی دیر تک بٹالہ میں مشن کے ملازموں کی نگرانی میں رہا اتنا ہی اس کی شہادت مفصل اور طویل ہوتی گئی۔ اس کے پہلے بیان میں جو اُس نے ۱۲ تاریخ کو میرے سامنے لکھایا بہت سی باتیں تھیں ۔ اُس بیان میں نہیں تھیں جو اُس نے اوّل ڈاکٹر کلارک کے سامنے کیا۔ یا جب اس کا اظہار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر نے لیا۔ اور جب اُس نے دوبارہ ہمارے سامنے ۱۳ راگست کو اظہار دیا تو اُس نے بہت سی باتیں زائد بڑھا دیں۔ اس سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کہ یا تو کوئی شخص اس کو یا اشخاص سکھلاتے پڑھاتے ہیں یا یہ کہ اس کو اس سے اور زیادہ علم ہے جتنا کہ وہ اب تک ظاہر کر چکا ہے کے ساتھ عدل سے انحراف کرنا جائز ہے تو اوروں کے ساتھ کیوں جائز نہیں؟ یہی تمام غلطیاں ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے مجھے مطلع کیا تا میں گمراہوں کو متنبہ کروں اور ان کو جو تاریکی میں رہتے ہیں روشنی میں لاؤں ۔ اور میں نے نہ صرف یہ کیا کہ معقول بیان کے ساتھ عیسائیوں کی غلطیاں ان پر کھول دوں بلکہ آسمانی نشانوں کے ساتھ بھی ان کو ملزم کیا۔ اور ایسا ہی ان مسلمانوں کو بھی جو ان ہی خیالات ۲۵۳ بقیه حاشیه