کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 630

کتاب البریہ — Page 267

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۷ تھا کہ خبر نہیں۔ سیدھا بنگلہ پر تھانہ دار لے گیا۔ بموجب حکم کپتان صاحب کے تھانہ دار نے مجھے ﴿۲۳۲) سے دریافت کیا۔ وہ دوسرا تھانہ دار تھا۔ درخت کے نیچے جو احاطہ بنگلہ میں ہے تھا نہ دار مجھے لے گئے اور مجھ سے دریافت کیا۔ قریب پچیس گز کے درخت دُور تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ سچ نہیں بولتا۔ میں نے جواب دیا کہ میں سچ کہتا ہوں جو لکھایا ہے بیچ ہے۔ پھر انہوں نے کپتان صاحب سے کہا کہ یہ لڑ کا سچ نہیں بتلاتا ہے۔ صاحب نے حکم دیا کہ میرے رو بروئے لاؤ۔ محمد بخش پوچھنے والوں میں نہ تھا۔ صرف ایک آدمی پوچھتا تھا جو دوسرا تھا نہ دار ہے نام نہیں جانتا۔ وہ تھانہ دار نہیں پوچھتا تھا جو گاڑی میں لایا تھا۔ محمد بخش نے کوئی بات مجھ سے نہیں پوچھی تھی۔ محمد بخش اور دوسرا تھانہ دار اور ایک اور سپاہی یا منشی وہاں تھے۔ وہ منشی ہندو تھا۔ وہ منشی کسی مقدمہ کے فیصلہ ہونے کا ذکر کرتا تھا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ وہ منشی ہے۔ مجھے محمد بخش نے نہیں کہا تھا کہ تم نے مرزا صاحب کے برخلاف لکھوانے میں گناہ کیا ہے۔ مجھے کوئی آدمی مرزا صاحب کا نہیں ملا۔ صرف چار پانچ منٹ درخت کے نیچے گفتگو ہوئی تھی ۔ تین چار قدم کے فاصلہ پر چار پائی تھی اُس پر پھر میں لمبا پڑا رہا تھا۔ ایک دو گھنٹے کے بعد نوکر اُٹھا اور مظہر کو کپتان صاحب کے رُو بروئے حاضر کیا گیا۔ میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا۔ اور نہ کسی نے تھانہ دار سے گفتگو کی تھی۔ صریح باطل ہے ۔ لہذا قطعی طور پر یہ ماننا پڑا کہ ملعون سے مراد وہ شخص ہے جس کی روح کو خدا کے ۲۳۲) قرب میں جگہ نہ ملے اور خدا کی طرف نہ اٹھایا جائے۔ اور میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توریت کے رو سے جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی مصلوب ہو وہ بنتی ہے۔ اور اسی سے یہود نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام لعنتی ہیں ۔ اور اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ لعنت کو جسم سے کچھ تعلق نہیں اور نہ عدم لعنت سے جسم کا آسمان پر جانا مانا گیا ہے۔ لہذا یہود کا اعتراض حضرت مسیح کی نسبت صرف یہ تھا کہ وہ ان کو ملعون ٹھہرا کر اس مقام قرب اور رحمت سے بے نصیب ٹھہراتے تھے جہاں ابراہیم اور