کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 630

کتاب البریہ — Page 266

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۶ نہ رہتے تھے۔ برہان الدین سے میری پہلے بھی صلح تھی تب بھی تھی ۔ جب بٹالہ میں یہ مقدمہ ہو رہا تھا خبر نہیں برہان الدین تھا۔ اب بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ کیونکہ میں پہرہ میں ۲۳۱ تھا۔ میں نے ٹوکری اٹھانے کا کام از خود کیا تھا کسی کے کہنے سے نہیں کیا تھا۔ چھاپہ خانہ میں علیحدہ کام کیا تھا۔ میں نے برہان الدین کو وہاں تب نہیں دیکھا تھا۔ صرف ایک جوڑا کپڑوں کا میرے پاس تھا جب میں قادیاں گیا تھا۔ مجھے وارث دین وغیرہ کہتے تھے کہ تم کہو کہ دوتین جوڑے تھے جب گیا تھا۔ غلام مصطفی میرا پہلے واقف نہ تھا۔ مسلمان جان کر کھانا اس نے دو روز دیا تھا۔ بٹالہ میں دریافت کر کے اس کے چھاپہ خانہ میں گیا تھا۔ 9 بجے دن کے گاڑی میں سوار ہو کر امرتسر گیا تھا۔ جاتے ہی حال بازار سے نورالدین کا پتہ مجھے ملا تھا کہ وہ عیسائی مناد ہے۔ کھانا کھا کر بٹالہ سے چلا تھا۔ دو تین بجے دن کے گرے صاحب کے پاس گیا تھا اور اسی روز ڈاکٹر صاحب کے یہاں گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے نانکے وغیرہ کا حال پوچھا تھا اور میں جواب کافی نہ دے سکا تھا۔ ٹم ٹم میں تھا نہ دار مجھے چڑھا لا یا تھا۔ سائیں کے سامنے مجھے پیچھے بٹھایا تھا۔ شام کو پریم داس و وارث دین وغیرہ کپتان صاحب کے بنگلہ پر آئے تھے کہ لڑ کا ہم کو مل جاوے۔ راستہ میں تھانہ دار نے مجھ سے کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیوں مجھے کپتان صاحب نے بلایا ہے اس نے کہا یہ خیال تھا کہ جو لوگ ملعون نہیں ہوتے وہ معہ جسم آسمان پر چلے جاتے ہیں۔ توریت سے ثابت ہے کہ حضرت یوسف کی ہڈیاں چار سو برس بعد فوت کے حضرت موسیٰ کنعان کی طرف لے گئے ۔ اگر وہ ہڈیاں آسمان پر چلی جاتیں تو زمین سے کیونکر دستیاب ہوتیں۔ توریت سے یہ بھی ثابت ہے کہ انسان مرنے کے بعد خاک میں جائے گا کیونکہ وہ خاک سے پیدا کیا گیا ہے۔ غرض اس میں کسی کو کلام نہیں کہ مرنے کے بعد تمام نبی زمین میں ہی دفن ہوتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ تمام نبی خدا کے مقرب تھے نہ ملعون ۔ پھر اگر ملعون کی یہ علامت ہے کہ وہ معہ جسم آسمان پر نہیں اٹھایا جاتا تو نعوذ باللہ تمام نبی ملعون ہوں گے اور ایسا خیال اگر ملعون معہ جسم آسمان پر نہیں جا تا تو ماننا پڑے گا کہ جو لوگ ملعون نہیں وہ ضرور معہ جسم آسمان پر جاتے ہیں اور یہ صریح باطل ہے۔ منہ