کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 630

کتاب البریہ — Page 265

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۵ تحریر میں نے کی تھی وہ مجھ سے لے کر انہوں نے چاک کر دی تھی۔ جو بیان میں نے اب لکھایا ہے یہ بالکل درست اور سچ ہے۔ پہلا بیان مارے خوف اور ترغیب کے لکھایا تھا۔ میں نے خود بخود به بیان جواب لکھوایا ہے کسی کی ترغیب یا تحریص سے نہیں لکھوایا۔ (بسوال وکیل استغاثہ ) میں اس وقت تک محمدیوں سے نہیں رلا۔ یعنی نہ محمد صاحب کو سچا جانتا ہوں اور قرآن کو۔ متلاشی عیسائی ہوں۔ میں لاہور سے قادیاں مولوی نورالدین کے ساتھ کبھی نہیں آیا اور نہ (۲۳۰) امرتسر میں۔ پہلے پہل جب قادیاں گیا تھا سالم یکہ بٹالہ سے لیا تھا۔ شیخ رحمت اللہ کو دو دفعہ میں نے لاہور میں دیکھا تھا یعنی ملا تھا۔ پہلی دفعہ اس نے ۱۸ مجھے دیئے تھے۔ ڈاکٹر نبی بخش کو لاہور دیکھا تھا۔لاہور سے بٹالہ تک آیا وہ اول درجہ کی گاڑی میں تھا اور میں سوم درجہ میں تھا۔ بٹالہ اس کے پاس میں نہیں ٹھہرا تھا۔ صرف رات رہا اور صبح قادیاں چلا گیا تھا۔ قادیاں جانے کے وقت سے مولوی نور دین سے واقف ہوا ہوں۔ میری سفارش کسی نے مولوی نور الدین سے نہیں کی تھی۔ میراں بخش گجراتی نے مجھے کہا تھا کہ مرزا صاحب کے پاس قادیاں جاؤ اور تعلیم پاؤ۔ دوسری دفعہ گجرات نوکری کے واسطے مظہر گیا تھا۔ میرے پاس دو روپیہ تھے جب قادیاں گیا تھا۔ مولوی نورالدین کی میرے چا برہان الدین سے خبر نہیں کہ دوستی ہے یا نہ۔ جب میں پہلی دفعہ قادیاں آیا برہان الدین وہاں نہ تھا۔ دوسری دفعہ میرے آنے سے پہلے وہ وہاں تھا۔ وہ اور میں اکٹھے پھر رویت کے لحاظ سے دلوں میں یہ بات سما گئی کہ جسم عنصری کے ساتھ یسوع آسمان پر چلا ۲۳۰ گیا۔ آسمان پر چڑھانے سے اصل غرض تو یہ تھی کہ تا یہودیوں کے اس الزام سے یسوع کو بری کریں کہ وہ نعوذ باللہ لعنتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف اٹھا یا نہیں گیا ۔ مگر جن لوگوں نے اس اعتراض سے بچنے کے لئے یسوع کے جسم کو آسمان پر چڑھا دیا انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ لعنت جس پر یہود زور مارتے تھے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مصلوب ہونے سے کسی کا جسم آسمان پر نہیں جاتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ملعون کی روح خدا تعالی کی طرف اٹھائی نہیں جاتی۔ یہودیوں کا یہ خیال نہ تھا کہ ملعون کا جسم آسمان پر نہیں جاتا اور نہ ان کا